The news is by your side.

Advertisement

پیوٹن کی پرامن حلف برداری کے لیے طاقت کا استعمال، قائد حزب اختلاف سمیت سینکڑوں گرفتار

ماسکو: روسی صدر ولادی میر پیوٹن کی پرامن حلف برداری کے لیے طاقت کا استعمال، قائد حزب اختلاف کو سینکڑوں کارکنوں کے ساتھ گرفتار کرلیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق ولادی میر پیوٹن چھوتی مدت کے لیے ملک کے صدر منتخب ہوئے ہیں، جس کی تقریب حلف برداری منعقد ہونے سے قبل الیکسئی نوالنی کو حراست میں لیا گیا۔

الیکسئی نوالنی نے روس کے 90 سے زیادہ شہروں اور قصبوں میں لوگوں سے صدر پیوٹن کے زار طرزِ حکمرانی کے خلاف احتجاجی مظاہروں کی اپیل کی تھی۔

پولیس نے الیکسئی نوالنی کو ماسکو کے وسطی چوک میں نوجوانوں کی ایک ریلی میں نمودار ہونے کے فوری بعد گرفتار کیا، ریلی میں شریک نوجوان ’روس پیوتن کے بغیر‘ اور ’زار مردہ باد‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔

واضح رہے کہ الیکسئی نوالنی کو صدر پیوٹن کے مقابلے میں صدارتی انتخابات میں حصہ لینے سے بھی روک دیا گیا تھا۔ انھیں ماضی میں بھی اسی طرح کے احتجاجی مظاہرے منظم کرنے کی پاداش میں گرفتار کیا جاچکا ہے۔

ولادی میر پیوٹن چوتھی بار روس کے صدر منتخب

خیال رہے کہ ولادی میر پیوٹن مارچ میں بھاری اکثریت سے چوتھی مرتبہ مزید چھے سال کے لیے صدر منتخب ہوئے ہیں اور اب وہ 2024 تک برسراقتدار رہیں گے، اس طرح وہ سوویت یونین کے سابق مطلق العنان صدر جوزف اسٹالن کے بعد طویل عرصہ تک منصبِ صدارت پر فائز ہونے والے لیڈر بن جائیں گے۔ اسٹالن قریباً تیس سال تک سوویت یونین کے صدر رہے تھے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں