The news is by your side.

Advertisement

“ظالمو جواب دو، لوٹ مار کا حساب دو”: اپوزیشن نے پیپلزپارٹی کا بجٹ مسترد کر دیا

وزیر اعلیٰ سندھ کی اپوزیشن پر شدید تنقید

کراچی: سندھ اسمبلی میں وزیراعلیٰ سندھ کی بجٹ تقریر کے دوران اپوزیشن نے شدید احتجاج کرتے ہوئے ایجنڈے کی کاپیاں‌ پھاڑ دیں.

تفصیلات کے مطابق آج سندھ حکومت نے 11 کھرب 44 ارب روپے سے زائد کا بجٹ پیش کیا، جس میں کسی نئی اسکیم کو شامل نہیں کیا گیا۔

وزیراعلیٰ سندھ کی بجٹ تقریر کے دوران شدید نعرے بازی اور شور شرابا ہوا، ایوان میں اپوزیشن “حکومت کرپٹ ہے” کے نعرے لگاتی رہی اور بینچوں سے “ظالمو جواب دو، سندھ میں لوٹ مار کا حساب دو” کے نعرے بلند ہوتے رہے.

ابتدا میں وزیر اعلیٰ کی جانب سے نعرہ کو نظرانداز کیا گیا، البتہ بعد میں‌ انھوں نے اپوزیشن جماعتوں‌ کو آڑے ہاتھوں لیا.

مراد علی شاہ نے پی ٹی آئی ارکان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر بلین ٹری منصوبے میں ایک ارب درخت لگے، تو گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں نام کیوں نہیں آیا، کے پی حکومت کی ترقی صرف اشتہارات میں ہے، آپ جیسے دوچار جو آئیں گے، وہ بھی پچھلی بینچوں پربیٹھ کر نعرے ہی لگائیں گے.

اپوزیشن نے نامنظور نامنظور، موجودہ بجٹ نامنظورکے نعرے لگائے اور ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں۔ مراد شاہ نے جواب میں کہا کہ جیسے ان کے لیڈر کی تربیت ہوگی، یہ ویسا ہی رویہ رکھیں گے.

اس دوران اسپیکر آغا سراج درانی اپوزیشن ارکان کو اپنی بینچوں پر بیٹھنے اور خاموش رہنے کی ہدایت کرتے رہے.


سندھ:‌ آئندہ تین ماہ کا بجٹ‌ پیش، کل حجم 11 کھرب 44 ارب روپے


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں