The news is by your side.

Advertisement

‏’اپوزیشن بجٹ تقریر سن لیتی تو احتجاج نہ کرتی‘‏

وفاقی وزیراطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ اپوزیشن سیاستدانوں کوبدنام کرنے کے ‏مشن پر ہے اگر اپوزیشن بجٹ تقریرسن لیتی توشایداحتجاج کی ضرورت پیش نہ آتی۔

بجٹ پر اپوزیشن کے احتجاج پر ردعمل دیتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ اپوزیشن بجٹ ‏تقریرسن لیتی تو شاید احتجاج کی ضرورت پیش نہ آتی، اپوزیشن نےپہلےہی ذہن بنا رکھا تھا کہ ‏شورشرابہ کرناہے انہوں نے بجٹ تقریر سنی نہیں، بجٹ کاانہیں پتہ نہیں اوراحتجاج کر رہے ہیں۔

فواد چوہدری نے کہا کہ ن لیگ اور پی پی آئندہ 5 سال بھی اسی طرح احتجاج کرتےرہیں گے ن ‏لیگ اورپیپلز پارٹی کےاحتجاج سےکوئی فرق نہیں پڑتا اس کلچرکوتبدیل ہوناچاہئے،اپوزیشن ‏آئےبجٹ کامطالعہ کرے، اپوزیشن اس پر اپنی تجاویزدےکہ وہ کیاچاہتی ہے بدقسمتی ‏سےاپوزیشن کاایک ہی مطالبہ ہےہمارےکیسزختم کردیں یہ کیسز ہمارے ذاتی نہیں ہیں کہ ہم ‏معاف کردیں۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ پی ایس ڈی پی میں اس سال 900 ارب روپے رکھے گئے ہیں پی ایس ڈی ‏پی میں 27 فیصد زیادہ حصہ صوبوں کوملےگا، صوبوں کاکام ہےترقیاتی بجٹ بنائیں،اخراجات کو ‏عوامی فلاح پرلگائیں پی آئی اے اور ریلوےسمیت دیگراداروں کوفعال بنایاہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کیاہے،نیاٹیکس نہیں لگایا وزیراعظم ‏عمران خان نے ملک کو معاشی دلدل سےنکالا، وزیراعظم نے قرضوں کی زنجیرمیں جھکڑی قوم کو ‏نئی امید دی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں