The news is by your side.

Advertisement

کوئی گاڑی نہیں روکے گا تو گولیاں چلا دو گے؟ عدالت کا پولیس سے سوال

اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت میں پولیس کی فائرنگ سے قتل 21 سالہ نوجوان اسامہ کے کیس میں انسداد دہشت گردی عدالت کے جج نے تفتیشی افسر پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ اصل تصویر نہیں بنائی اس کا مطلب ہے تم لوگ بھی ملزمان سے ملے ہوئے ہو۔ عدالت میں ملزم نے کہا کہ اسامہ نے 3 سگنل کراس کیے۔

تفصیلات کے مطابق دارالحکومت اسلام آباد میں پولیس کی فائرنگ سے قتل 21 سالہ نوجوان اسامہ کے کیس میں گرفتار 5 پولیس اہلکاروں کا 3 روزہ جسمانی ریمانڈ مکمل کرلیا گیا جس کے بعد پانچوں ملزمان کو انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کر دیا گیا۔

ملزمان میں مدثر، شکیل، محمد مصطفیٰ، سعید احمد اور افتخار احمد شامل ہیں۔

عدالت میں کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے سوال کیا کہ بچے کو گولیاں پیچھے سے لگی ہیں؟ پولیس حکام نے کہا کہ جی ہاں گولیاں پیچھے سے لگی ہیں، عدالت نے پوچھا اسامہ کو کتنی گولیاں لگیں، پولیس نے بتایا کہ اسامہ کو 5 گولیاں پیچھے سے لگیں۔

عدالت نے وقوعے کی تصاویر مانگ کر دیکھیں جس ہر پولیس حکام کی جانب سے کہا گیا کہ گولیاں لگنے کی تصاویر نہیں ہیں، جس پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کیا مطلب تصویر لی ہی نہیں گئی ہے، اس کا مطلب ملے ہوئے ہو سب، گاڑی کے پیچھے کی تصویر لے کر آئے ہو لیکن وہ تصویر ہی نہیں جس میں سامنے سے گولی لگی۔

عدالت نے کہا کہ یہ سب چیزیں ریکارڈ کا حصہ بنائی جائیں۔

بعد ازاں عدالت نے ملزمان کو روسٹرم پر بلوایا، عدالت نے پوچھا کہ کیا بچے نے فائرنگ کی تھی جو آپ نے بدلے میں فائرنگ کی؟ ملزم نے کہا کہ اسامہ نے 3 سگنل کراس کیے۔

جج نے برہمی سے پوچھا کہ میں 50 سال کا ہوں گاڑی نہیں روکوں گا تو گولی مار دو گے؟ یہ کون سا طریقہ کار ہے؟ عدالت نے ملزمان سے دریافت کیا کہ پوری تفصیل بتاؤ واقعہ کیسے پیش آیا۔

ملزم نے اپنے بیان میں کہا کہ اے ایس آئی سلیم نے کال چلائی کہ ڈکیتی کی واردات ہوئی ہے، کہا گیا کہ کشمیر ہائی وے پر آجائیں، ایک سفید رنگ کی گاڑی ہے، کہا گیا کہ گاڑی میں 4 افراد سوار ہیں ہر صورت گاڑی کو روکنا ہے۔

عدالت نے کہا کہ تمہاری گاڑی بڑی تھی اسامہ کی گاڑی چھوٹی تھی، تمہیں نہیں پتہ گاڑی کیسے روکنی ہے؟ گاڑی پر گولیاں برسا دو گے؟

سماعت کے دوران تفتیشی افسر نے عدالت سے ملزمان کا جسمانی ریمانڈ دینے کی استدعا کی، تفتیشی افسر کا کہنا تھا کہ ملزمان سے اسلحہ قبضے میں لے لیا گیا ہے، اسامہ قتل کیس کی تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی بھی بنائی گئی۔

عدالت نے تفتیشی افسر سے واقعے کے بارے میں پوچھا جس پر وکیل نے کہا کہ تفتیشی افسر کو بتایا جائے کہ یہ انسداد دہشت گردی عدالت ہے، اگر تفتیشی افسر غلط بیانی کرے گا تو اس کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔

تفتیشی افسر نے اسامہ کی میڈیکل رپورٹ عدالت میں پیش کی، عدالت نے افسر پر بھی برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تفتیشی افسر نے اسامہ کے قتل کے وقوعہ کی تصویر نہیں لی، اصل تصویر نہیں بنائی اس کا مطلب ہے تم لوگ بھی ملزمان سے ملے ہوئے ہو۔

خیال رہے کہ ہفتہ 2 جنوری کو دارالحکومت اسلام آباد میں 21 سالہ کار سوار اسامہ اے ٹی ایس اہلکاروں کی فائرنگ سے جاں بحق ہو گیا تھا۔

پولیس کا کہنا تھا کہ رات کو کال آئی کہ گاڑی سوار ڈاکو شمس کالونی میں ڈکیتی کی کوشش کر رہے ہیں، اے ٹی ایس پولیس کے اہلکاروں نے، جو گشت پر تھے، مشکوک گاڑی کا تعاقب کیا، پولیس نے کالے شیشوں والی گاڑی کو روکنے کی کوشش کی، روکنے کی کوشش پر ڈرائیور نے گاڑی نہ روکی۔

ترجمان پولیس کا کہنا تھا کہ پولیس نے متعدد بار جی 10 تک گاڑی کا تعاقب کیا اور نہ رکنے پر گاڑی کے ٹائروں پر فائر کیے گئے، 2 گولیاں گاڑی کے ڈرائیور کو لگیں جس سے ڈرائیور موقع پر ہی دم توڑ گیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں