The news is by your side.

Advertisement

کراچی سمیت سندھ بھر میں ڈائریا کی وبا پھیلنے لگی

کراچی سمیت سندھ کے بیشتر شہر اس وقت ڈائریا کی وبا کی لپیٹ میں ہیں اور روزانہ سینکڑوں افراد خاص طور پر بچے دست اور اسہال کی بیماری کے سبب سرکاری اور نجی اسپتالوں میں علاج کے لیے لائے جا رہے ہیں۔

اس بات کا انکشاف پاک جی آئی اینڈ لیور ڈیزیز سوسائٹی سے وابستہ ماہرینِ امراضِ پیٹ و جگر نے اتوار کے روز کراچی کے مقامی ہوٹل میں منعقد مفاہمت کی یادداشت کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

تقریب کا انعقاد پاک جی آئی اینڈ لیور ڈیز سوسائٹی نے کیا تھا اور اس موقع پر مقامی دوا ساز ادارے کے تعاون سے گیسٹرواینٹرولوجی ریسرچ ایوارڈ کے اجرا کا بھی اعلان کیا گیا۔

مفاہمت کی یادداشت کی تقریب سے پی جی ایل ڈی ایس کے سرپرست اعلی ڈاکٹر شاہد احمد، صدر ڈاکٹر لبنیٰ کمانی، پروفیسر امان اللہ عباسی، ڈاکٹر سجاد جمیل، ‘ہائی کیو’ فارما کے مینیجنگ ڈائریکٹر عاطف اقبال اور ڈاکٹر نازش بٹ نے بھی خطاب کیا۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر امان اللہ عباسی کا کہنا تھا کہ کراچی سمیت سندھ بھر میں گیسٹرو اینٹرائٹس کی وبا پھیل چکی ہے جس کے نتیجے میں روزانہ سینکڑوں افراد سرکاری اور نجی ہسپتالوں میں لائے جا رہے ہیں، پاکستان میں آلودہ پانی سے پھیلنے والی بیماریوں سے بچاؤ کے حوالے سے آگاہی پھیلانے سمیت پیٹ اور جگر کے امراض پر تحقیق کی اشد ضرورت ہے۔

سوسائٹی کے سرپرست اعلی ڈاکٹر شاہد احمد نے اس موقع پر بتایا کہ مقامی دوا ساز ادارے کے تعاون سے پیٹ کے امراض پر ریسرچ کے لیے ایوارڈز کا اجراء کر رہے ہیں، پاکستان سمیت خطے کے دیگر ممالک سے دس نوجوان ڈاکٹروں اور تحقیق کاروں کو اچھے تحقیقی مقالوں پر فی کس پچیس ہزار روپے دیے جائیں گے، ایوارڈز کا اعلان سوسائٹی کی جون میں ہونے والی سالانہ کانفرنس میں کیا جائے گا۔

مقامی دوا ساز ادارے ہائی کیو کے مینیجنگ ڈائریکٹر عاطف اقبال کا کہنا تھا کہ پاکستان میں مقامی بیماریوں پر تحقیق کے لیے فنڈز فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں، انہوں نے مزید بتایا کہ کہ پیٹ کے امراض سمیت دیگر بیماریوں کے علاج کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور مشینوں کی درآمد جلد شروع کر دی جائے گی۔

پی جی ایل ڈی ایس کی صدر ڈاکٹر لبنیٰ کمانی نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان کے اکثر نوجوان ڈاکٹروں کو اپنی مصروفیات اور فنڈز کی کمی کی وجہ سے میڈیکل ریسرچ پیپر لکھنے کا موقع نہیں ملتا جس کی وجہ سے پاکستانی ریسرچ الاقوامی سطح پر اجاگر نہیں ہوتی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ پاک جی آئی اینڈ لیور ڈیزیز سوسائٹی کے پلیٹ فارم سے مقامی امراض پر ریسرچ کے فروغ کے لیے کوششیں کر رہے ہیں تاکہ پاکستان میں بیماریوں کی روک تھام اور علاج میں مدد مل سکے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں