The news is by your side.

Advertisement

بلوچستان کے درجنوں کیچڑ فشاں پہاڑ، حکومتی توجہ کے منتظر

بلوچستان کے علاقے لسبیلہ کے مکران کوسٹل ریجن میں قائم ہنگول نیشنل پارک (ایچ این پی) میں درجنوں متحرک کیچڑ فشاں پہاڑ ہیں، جن کے اندر سے لاوے کی طرح مٹی ابل ابل کر باہر آرہی ہے۔

اے آوائی ڈیجیٹل کے نمائندہ حنین امین ان پہاڑوں کی دریافت کے حوالے سے جمعے کے روز کراچی سے بلوچستان کی جانب روانہ ہوئے، انہوں نے اپنے مشن کے سفر کا آغاز جمعے کو فجر کے بعد کیا۔

اس مشن پر اُن کے ساتھ اور بھی ساتھی موجود تھے جبکہ کراچی ماہر فلکیات سوسائٹی (کے اے ایس) سے تعلق رکھنے والے افسر مہدی حسین بھی موجود تھے، جنہوں نے نہ صرف مذکورہ پہاڑوں کو دورہ کرایا بلکہ اس حوالے سے بہت اہم معلومات بھی فراہم کیں۔

بلوچستان جانے  کے لیے لیاری ایکپسریس وے سے حب ریور روڈ اور پھر مکران کوسٹل ہائی وے کا راستہ اختیار کیا گیا، دو سو کلومیٹر کی ڈرائیو کے بعد ہنگول نیشنل پارک آگیا، جس کے بعد چندراگپ کی جانب پیش قدمی کی گئی۔

A birdeye view peeking the mysterious crest of a dormant Chandragup volcano

سطح سمندر سے 3 ہزار فٹ سے زائد بلندی پر واقع چندرا گپ ایک ایسا مقام ہے، جسے ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والے افراد بہت ہی عقیدت اور احترام کی نظر سے دیکھتے ہیں اور وہ اس مقام کی زیارت ضرور کرتے ہیں۔

اس مقام پر درجنوں (100 کے قریب) ایسے  کیچڑ فشاں پہاڑ موجود ہیں، جو اپنے اندر سے لاوے کی مانند مٹی باہر پھینک رہے ہیں، یہ سلسلہ عرصہ دراز سے جاری ہے، جس کی وجہ سے پہاڑ کے اطراف آپ  کو مٹی کی موٹی تہہ کیچڑ کی صورت میں‌ پھیلی ہوئی نظر آئے گی۔

Mud-oozing-out-of-the-volcanic-vent-streaming-down,-drying-and-this-depositing-on-the-mountian

ان پہاڑوں کی بلندی کے حوالے سے مختلف آراء ہیں، جنہیں 800 سے ڈیڑھ ہزار فٹ بلند مانا جاتا ہے، ان میں سب سے مشہور مقام چندراگپ ہے۔

مہدی حسین نے بتایا کہ ’میں نے گوگل ارتھ فیچر کی مدد سے ان پہاڑوں کو تلاش کیا، جس کے بعد باقاعدہ تحقیق بھی شروع کی، اس دوران مجھے بہت سارے ایسے لوگ ملے جن کی اس حوالے سے دلچسپی تھی، میں اب تک 130 ایسے کیچڑ فشاں دریافت کرچکا ہوں ‘۔

انہوں نے بتایا کہ اس علاقے پر حکومت نے ابھی تک کوئی توجہ نہیں دی اور نہ ہی کوئی دلچسپی ظاہر کی ہے، اگر حکومت تھوڑی سی توجہ دے تو ہم اس حوالے سے بہت ساری چیزوں کے بارے میں سیکھ سکتے ہیں‘۔

 مہدی حسین کا کہنا تھا کہ ’ سرکاری حکام ماہرین ارضیات، معدولیات اور آثار قدیمہ کو یہاں بھیج کر تمام تر تفصیلات اکھٹی کریں اور پھر ان پر تحقیق کی جائے، اس حوالے سے غور کرنے کے لیے ڈیٹا کا موجود ہونا بے حد ضروری ہے‘۔

انہوں نے بتایا کہ وہ جغرافیائی دریافت کا کام گزشتہ 16 سالوں سے کررہے ہیں اور اُن کی مکمل توجہ بلوچستان پر ہے، اس حوالے سے انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر مختلف گروپس بھی تشکیل دیے ہوئے ہیں، جن کی مدد سے ہم خیال لوگ ملتے ہیں۔

مہدی حسین کا کہنا تھا کہ میں ان مقامات کا نقشہ بنا کر اپنی ذاتی حیثیت میں یہاں پر لوگوں کو لے کر آتا ہوں اور خواہش ہے کہ حکام بھی اس حوالے سے اقدامات کریں اور ان کیچڑ فشاں پہاڑوں سے استفادہ کریں، پاکستان کو ایسے تمام مقامات کو ریکارڈ پر لاکر دنیا کے سامنے پیش کی ضرورت ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں