site
stats
پاکستان

روایتی اور غیر روایتی دشمن کا سامنا ہے ، ایئر چیف

اسلام آباد: پاک فضائیہ کے سربراہ سہیل امان نے فضائیہ کے تحت نور خان آڈیٹوریم ائیر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد میں ’’ ائیر پاور ‘‘کے موضوع پر منعقدہ دو روزہ عالمی سیمینار کا افتتاح کیا۔

ائیر چیف نے سیمینار کے افتتاحی سیشن میں شرکت کی جب کہ پاک فضائیہ کے سابق سربراہان ، پاک فضائیہ کے سینئر حاضر سروس اور ریٹائرڈ افسران، پاکستان میں موجود غیر ملکی دفاعی اور فضائی اتاشی اور مختلف تعلیمی اداروں کے نمایاں افراد بھی اس سیمینار میں موجود تھے۔

پاک فضائیہ اور مختلف اتحادی ممالک کی فضائیہ کے مقررین اور مبصرین اس سیمینار میں ائیر پاور سے متعلق ایک دوسرے کے خیالات اور تجربات سے استفادہ کریں گے۔

ائیر چیف نے اس موقع پر افتتاحی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’ عصرِ حاضر میں ائیر پاور کو نہایت اہمیت اور خصوصیت حاصل ہو چکی ہے جو کہ کافی حد تک ٹیکنالوجی کی بتدریج ترقی کی مرہونِ منت ہے علاوہ ازیں ائیر پاور میں اعلیٰٰ تربیت، موثر منصوبہ بندی اور پیشہ ورانہ قیادت کے پہلوؤں کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ طویل عرصے سے ائیر پاورکے ماہرین ان پہلوؤں پربھر پور توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں ،اکیسویں صدی میں سیکیورٹی کو بہت خطرناک چیلنجز درپیش ہیں، جنگ کا دائرہ کار وسیع ہو رہا ہے اور ہمیں روایتی اور غیر روایتی دشمن کا سامنا ہے ۔

ایئر چیف نے کہا کہ ہمیں ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھنے کی بھی ضرورت ہے، ائیر پاور کو اس کی بنیادی خصوصیات کی وجہ سے کسی بھی طرح کی روایتی اور غیر روایتی جنگ میں بخوبی استعمال کیا جا سکتا ہے اور یہ کسی بھی قسم کے آپریشنز میں یہ منصوبہ بندی سے لے کر اپنے اہداف کو نہایت موثر طریقے سے نشانہ بنانے کے کام آتی ہے۔

اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ مجھے فخر ہے کہ پاک فضائیہ نے پچھلے چند برس میں دہشت گردوں کے خلاف فضائی آپریشن کو نہایت کامیابی سے سر انجام دیا ہے اوران کامیاب فضائی آپریشنز سے حاصل ہونے والے تجربات سے ہم سیمینار میں شریک معزز مہمانوں کو بھی آگاہ کریں گے۔

واضح رہے کہ اتحادی ممالک کی فضائی افواج سے آنے والے مقررین اس سیمینار کے دوران لیکچرز اور Presentations دیں گے جن میں ترک، امریکن، آسٹریلوی، جنوبی افریقن، اطالوی، برطانوی، چینی، سعودی، اردنی، نائیجرین اور فرانسیسی فضائیہ کے مقررین شامل ہیں۔

خیال رہے کہ قبل ازیں 2015 ء میں بھی ایئر پاور پر سیمینار کا انعقاد کیا گیا تھا جب کہ رواں سال ہونے والے سیمینار کا بنیادی موضوع جدید دور میں ایئر پاور کا استعمال ہے۔

دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق اس قسم کے سیمینار کے ذریعے اتحادی ممالک کے درمیان سفارتی اوردفاعی تعلقات اور تعاون کو بڑھانے میں مدد ملتی ہے اور جدید ٹیکنالوجیز سے آگاہی حاصل ہوتی ہے جس سے دنیا بھر میں دفاعی رجحانات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top