The news is by your side.

Advertisement

لبنان میں ایک صدی بعد تتلیوں کی واپسی

بیروت: لبنان میں موسم سرما کی آخری برساتوں اور غیر معمولی پھولوں کی افزائش کے بعد ملک کے طول و عرض میں نقل مکانی کرنے والی تتلیاں واپس لوٹ آئی ہیں جس نے لوگوں کو خوشگوار حیرت میں مبتلا کردیا۔

لبنان کی سینٹ جوزف یونیورسٹی میں نباتی جینیات کے پروفیسر مجدا دغر خرات نے بتایا کہ اس سے قبل سنہ 1917 میں اتنی بڑی تعداد میں ایسی تتلیاں دیکھی گئی تھیں۔ ان تتلیوں کو پینٹڈ لیڈی کہا جاتا ہے۔ تتلی کے پروں پر سرخی مائل بھورا رنگ نمایاں ہوتا ہے جس پر سیاہ و سفید دھبے ہوتے ہیں۔

یہ تتلیاں اب لبنان کے باغات، سبزہ زاروں، کھیتوں اور دیہاتوں میں بھی دیکھی جاسکتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ ایک تاریخی لمحہ ہے۔

ہر تتلی کی زندگی کا دورانیہ صرف 25 دن ہوتا ہے اور اب وہ پورا موسم بہار کا عرصہ لبنان میں گزاریں گی۔ پینٹڈ لیڈی بٹر فلائی ہر سال 12 ہزار کلو میٹر کا فاصلہ طے کرتی ہے۔

تتلیوں کی آمد کے موقع پر بعض لبنانیوں نے لبنان میں ٹڈی دل کے حملے کو بھی یاد کیا جو سنہ 1915 سے 1918 تک جاری رہا تھا اور فصلوں کی تباہی سے ہزاروں لبنانی بھوک سے لقمہ اجل بن گئےتھے۔ اب موسم بہار کی آمد ہے اور سبزے پر ایسی ہزاروں لاکھوں تتلیاں دیکھی جاسکتی ہیں جو اپنے گھر کو واپس لوٹی ہیں۔

امریکی یونیورسٹی آف بیروت کی ماہر ڈاکٹر یاسمینا ال امینی نے غیر معمولی تعداد میں آنے والی تتلیوں کی وجہ آب و ہوا میں تبدیلی کو قرار دیا ہے۔

یاسمینا کہتی ہیں کہ مشرقی یورپ کی سرد ہواؤں اور لبنان کے معتدل درجہ حرارت سے تتلیاں یہاں رکی ہیں بصورت دیگر وہ گرمیوں میں دوبارہ افریقہ اور یورپ چلی جاتی ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں