The news is by your side.

پاکستان کی سیاسی صورتحال سے تعلقات متاثر نہیں ہوں گے، امریکا

واشنگٹن: (جہانزیب علی) امریکی محکمہ خارجہ کے سینئر عہدیدار کا کہنا ہے کہ امریکہ پاکستان کے ساتھ دیرینہ تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے، سیاسی صورتحال یا حکومت میں تیزی سے تبدیلیاں اس پر اثر انداز نہیں ہوتی۔

محکمہ خارجہ کے سینئر عہدیدار نے اے آر وائی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکی حکام کی پاکستانی وفد کے ساتھ حال ہی میں منعقد ہونے والے مذاکرات صحت کے شعبہ سے متعلق تھے، جس میں پاکستانی سی ڈی سی کے قیام، حفاظتی ٹیکوں، زچہ و بچہ کی صحت، کوویڈ 19 کی امدادی کوششوں اور غیر مواصلاتی امداد کے لیے امریکی فنڈز فراہم کرنے پر توجہ مرکوز کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ "ہم پاکستان کے ساتھ کئی شعبوں میں دیرینہ تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، اور اس سال ہمارے دوطرفہ تعلقات کی 75 ویں سالگرہ بھی منائی جا رہی ہے، جبکہ صحت کے شعبے میں کبھی م از کم دو دہائیوں سے مضبوط روابط ہیں۔

امریکی عہدیدار نے کہا کہ "میں سمجھتا ہوں کہ جو بھی حکومت ہو اس سے فرق نہیں پڑتا، ہم پاکستان کے ساتھ اپنے تعاون کو اہمیت دیتے ہیں، پاکستان میں تیز رفتار سیاسی تبدیلیوں کے بارے میں پوچھے جانے پر سینئر اہلکار نے کہا کہ ہم ایک مضبوط، خوشحال اور جمہوری پاکستان کو امریکی مفادات کے لیے اہم سمجھتے ہیں۔

پاکستانی وفد کے ساتھ ملاقات کی تفصیلات بتاتے ہوئے اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے اہلکار نے کہا کہ بات چیت کے دوران جن امور پر گفتگو کی گئی، ان میں پاکستان نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کو عطیہ کی گئی موبائل ٹیسٹنگ لیب بھی شامل تھی، ان لیبز کی مالیت 4.6 ملین ڈالر ہے اور لیبز کا استعمال پاکستان کی کوویڈ 19 اور دیگر متعدی بیماریوں کی تشخیص کرنے کی صلاحیت کو موثر بنانے کے لیے کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ اور پاکستان نے صحت کے شعبے میں ہمارے مضبوط دوطرفہ تعاون کو مزید گہرا کرنے کے لیے واشنگٹن ڈی سی میں امریکی محکمہ خارجہ میں یو ایس پاکستان ہیلتھ ڈائیلاگ کی میزبانی کی۔

امریکی وفد کی مشترکہ قیادت یو ایس ایجنسی فار انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ (یو ایس ایڈ) کے اسسٹنٹ ایڈمنسٹریٹر برائے عالمی صحت اتل گاوندے اور یو ایس ڈپارٹمنٹ آف ہیلتھ اینڈ ہیومن سروسز (ڈی ایچ ایچ ایس) کے اسسٹنٹ سکریٹری برائے عالمی امور لوئس پیس نے کی۔

مذاکرات میں پاکستانی وفد کی قیادت وفاقی وزیر عبدالقادر پٹیل نے کی، جس میں ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان، فیڈرل ڈائریکٹوریٹ آف امیونائزیشن، اور وزارت خارجہ کے حکام شامل تھے۔ انہوں نے کہا کہ "ہیلتھ ڈائیلاگ امریکہ اور پاکستان کے درمیان مضبوط تعلقات کی ایک مثال ہے اور ہمارے دوطرفہ تعلقات کی گہرائی اور وسعت کو اجاگر کرتا ہے۔

امریکی عہدیدار نے کہا کہ بات چیت کے لیے لوگوں کو اکٹھا کرنے کا یہ واقعی ایک مثبت پہلو ہے، اور ہو سکتا ہے کہ زیادہ رسمی اور غیر رسمی کام کرنے والا رشتہ مزید مضبوط اور گہرا ہو جائے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں