The news is by your side.

Advertisement

ایکشن پلان پرعملدرآمد، ایف اے ٹی ایف اورپاکستان درمیان براہ راست مذاکرات

بینکاک : پاکستان ایف اے ٹی ایف میں ایکشن پلان پرعملدرآمد کے لئے مذاکرات بینکاک میں شروع ہورہے ہیں، ایجنڈے میں سرفہرست دہشت گردی اور ٹیررازم فنانسنگ کے خطرات ہیں، مذاکرات میں پاکستان کانام گرے لسٹ سے نکالنے کا فیصلہ ہوگا۔ بات چیت کا دور تیرہ ستمبرتک جاری رہے گا۔

تفصیلات کے مطبق پاکستان اور ایف اے ٹی ایف میں ایکشن پلان پرعملدرآمد کے لئے گفت و شنید کا آغاز آج ہوگا، ذرائع وزارت خزانہ نے کہا پاکستان اورایف اے ٹی ایف حکام میں براہ راست مذاکرات بنکاک میں ہورہے ہیں، بات چیت کے ایجنڈے میں سرفہرست دہشت گردی اور ٹیررازم فنانسنگ کے خطرات ہیں۔

مذاکرات کےنتیجے میں پاکستان کا نام گرے لسٹ سے نکالنے یا بلیک لسٹ میں شامل کرنے کا فیصلہ ہوگا، توسیعی لسٹ سے نکلنے کیلئے اے پی جی کی جانب سے دیئے جانے والے ایک سو پچیس سوالات پربھی پیشرفت کا جائزہ لیا جائے گا۔

ایف اے ٹی ایف ٹیم کے ساتھ مذاکرات میں پاکستانی حکام سے فیس ٹو فیس کراس سوال و جواب بھی ہوں گے، مذاکرات میں بیس رکنی پاکستانی ٹیم کی قیادت وفاقی وزیر اقتصادی امورحماد اظہر کررہے ہیں۔

مذاکراتی ٹیم میں ایف آئی اے، اسٹیٹ بینک ، ایف بی آر، ایس ای سی پی، نارکوٹکس اور دیگر سیکیورٹی اداروں کے نمائندے شامل ہیں، مذاکرات تیرہ ستمبر تک جاری رہیں گے۔

مزید پڑھیں : ایشیا پیسیفک گروپ میں پاکستان کو بلیک لسٹ کرانے کی بھارتی کوششیں ناکام

یاد رہےگذشتہ ماہ ایشیا پیسیفک گروپ کے اجلاس میں بھارت کی پاکستان کو بدنام کرنے کی سازش اور پاکستان مخالف پروپگینڈا مہم ناکام ہوگئیں تھیں، فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے ذیلی ایشیا پیسیفک گروپ کا آسٹریلیا میں اجلاس ہوا تھا۔

اعلامیہ میں پاکستان کو بلیک لسٹ کرنے یا انہانسڈ ایکس پیڈائٹڈ فالو اپ کا ذکر ہی نہیں ہے اور کہا گیا تھا پاکستان سیمت پانچ ممالک کی میوچل ایویلیو ایشن رپورٹ اپنائی گئی ہے، ان ممالک میں چین اور فلپائن بھی شامل ہیں۔

اعلامیے میں کہا گیا تھا پاکستان کے بارے میں حتمی ایف اے ٹی ایف کے اجلاس میں کیا جائے، اجلاس پیرس میں تیرہ اکتوبر سے شروع ہوگا۔

خیال رہے رواں برس مئی میں پاکستانی وفد چین میں ہونے والے ایف اے ٹی ایف اجلاس میں شریک ہوا تھا جہاں منی لانڈرنگ اور ٹیررفنانسنگ پر بریفنگ دی تھی ، پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کی جانب سے دیے گئے 27 نکاتی ایکشن پلان پر اپنا جواب جمع کرایا تھا، جس پر ایف اے ٹی ایف کے وفد نے منی لانڈرنگ کے حوالے سے کیے گئے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں