The news is by your side.

Advertisement

بھنگ کی تجارت ڈھنگ سے کیجیے!

تحریر: عارف حسین

کیا واقعی ایک بدنام جنگلی پودا ہمیں بلین ڈالرز کی مارکیٹ میں قدم رکھنے کا موقع دے سکتا ہے؟

ہم بات کر رہے ہیں بھنگ کی، جس کے پودے کی وفاقی کابینہ نے تجارتی اور طبی استعمال کی اجازت دے دی ہے۔ پاکستان کے وفاقی وزیرِ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے ٹوئٹر پر اسے موجودہ حکومت کا ایک اہم فیصلہ قرار دیا ہے۔

بھنگ کا مختلف شکلوں‌ میں ‌استعمال برصغیر میں‌ عام ہے جب کہ تجارتی مقاصد کے لیے امریکا کی بات کریں تو وہاں‌ بھنگ کی صنعت تیز رفتاری سے ترقی کررہی ہے اور بعض‌ ماہرین نے خیال ظاہر کیا تھا کہ‌ 2020 تک اس کی فروخت 22 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔

پاکستانی حکومت کے بھنگ سے متعلق فیصلے پر “خبر دار” ہونے کے بعد ہم نے تھوڑا جھجھکتے ہوئے اس پودے کے خواص اور فوائد کے بارے میں‌ پڑھا تو یہ جانا کہ:

نیک نے نیک سمجھا، بَد نے بد جانا “تجھے”
جس کا جتنا ظرف تھا اتنا ہی پہچانا “تجھے”

ایسا لگتا ہے کہ صدیوں‌ سے خاص طور پر برصغیر میں‌ بھنگ کو ڈھنگ سے کسی نے استعمال ہی نہیں‌ کیا اور یوں ہر کسی نے اسے بُرا سمجھا۔

دراصل بھنگ کے پتّے اور پھول نشہ آور ہوتے ہیں اور مشہور ہے کہ اس کا نشہ دماغ کو سکون اور راحت بخشتا ہے۔

بھنگ کے پتّوں اور پھولوں کی خاص ترکیب سے مشروب اور چرس تیار کی جاتی ہے اور برصغیر میں صدیوں‌ سے اسے استعمال کیا جارہا ہے۔ اس پودے کو ہندی بھنگ، ہندی سن، قنبِ ہندی اور گانجا بھی کہا جاتا ہے۔

پچھلے سال ایک جرمن ادارے کی تحقیقی رپورٹ پڑھنے کا اتفاق ہوا جس کے مطابق پاکستان کا سب سے بڑا شہر کراچی دنیا کا دوسرا سب سے زیادہ چرس استعمال کرنے والا شہر ہے جب کہ اس حوالے سے امریکا کا شہر نیویارک پہلے نمبر پر ہے۔

جرمن کمپنی کے اعداد و شمار کے مطابق کراچی میں 42 ٹن چرس پھونکی جاتی ہے۔ اسی رپورٹ کے مطابق بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں‌ 38 ٹن سے زائد چرس پی جاتی ہے۔

امریکا کی ریاست کیلیفورنیا کے ایک ڈاکٹر کی کہانی بھی سنتے چلیے جس نے ایک چار سالہ بچّے کو بھنگ والے بسکٹ تجویز کیے تھے اور اس کا لائسنس منسوخ کردیا گیا۔

ڈاکٹر ولیم ایڈلمین قدرتی اجزا سے بنی ہوئی ادویات کے ماہر ہیں۔ انھوں‌ نے یہ نسخہ ایک ایسے بچے کے لیے تجویز کیا جو بہت زیادہ چڑچڑا تھا اور اسے شدید غصہ آتا تھا۔

ڈاکٹر نے اس بچّے کے والدین کو مخصوص مقدار میں بھنگ یا چرس دینے کا مشورہ اس کا مزاج ٹھنڈا رکھنے کے لیے دیا تھا۔ تاہم دل چسپ بات یہ ہے کہ معالج کے لائسنس کی منسوخی کی وجہ بھنگ استعمال کروانا نہیں‌ تھا بلکہ متعقلہ بورڈ نے اس کی اطلاع ملنے پر تحقیق کی تو ڈاکٹر ولیم کو ’علاج میں غفلت‘ برتنے کا مرتکب پایا۔ بورڈ کی نظر میں‌ ڈاکٹر کا فرض تھا کہ وہ بچّے والد کو اس کے علاج کے لیے نفسیاتی ماہر کے پاس جانے کا مشورہ دیتا۔

ریاست کیلیفورنیا میں چرس یا بھنگ کے طبی استعمال کو 1996 میں جائز قرار دیا گیا تھا اور اسی طرح امریکا کی دیگر ریاستوں اور دنیا کے کئی ممالک میں‌ حکومتوں نے بھنگ کے تجارتی اور طبی استعمال کی اجازت دے رکھی ہے اور اس سے ان ممالک کو مالی فائدہ ہورہا ہے۔

امریکا کی ورجینیا کامن ویلتھ یونیورسٹی کی 2013 کی ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ بھنگ یا چرس کے استعمال سے مرگی اور دیگر اعصابی بیماریوں سے بچاؤ میں مدد ملتی ہے۔ اسی طرح‌ دیگر اداروں‌ کی مختلف برسوں‌ کے دوران طبی تحقیق کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھنگ کا عرق، رس، خمیر یا چرس گلوکوما یا سبز موتیے سے بچاؤ میں معاون ہے۔ واضح رہے کہ گلوکوما کا مرض مستقل اندھے پن کا سبب بن سکتا ہے۔

اسی طرح چرس کا استعمال الزائمر کا خطرہ کم کرسکتا ہے۔ تاہم یہ اسی صورت میں‌ ممکن ہے جب معالج کی ہدایت کے مطابق اس کا استعمال بطور دوا کیا جائے۔

امریکا کی کینسر سے متعلق ویب سائٹ نے 2015 میں ایک رپورٹ شایع کی تھی جس کے مطابق بھنگ یا چرس سے کینسر کے خطرات میں کمی لائی جاسکتی ہے۔

طبی محققین کے مطابق بھنگ کے محدود استعمال سے ہیپاٹائٹس سی کے انسانی جسم پر منفی اثرات میں بھی کمی دیکھی گئی ہے۔

حکومت کے اس فیصلے کے بعد پاکستان میں‌ بھنگ کا پودا لگانا، اس کی خرید و فروخت کرنا، اس کا نقل و حمل آسان اور قانونی شکل اختیار کرلے گا اور یہ صنعت حکومت اور سرمایہ کاروں کے لیے منافع بخش ثابت ہو گی، لیکن ضروری ہے کہ جامع اور ٹھوس پالیسی بناتے ہوئے بھنگ کا نشے کے لیے استعمال روکا جائے اور متعلقہ محکمہ اس کی تجارت اور خرید و فروخت کے عمل کی مکمل اور کڑی نگرانی بھی کرے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں