site
stats
پاکستان

کسی بھی ملک کی ویزہ پالیسی وزارت داخلہ بناتی ہے‘ترجمان دفتر خارجہ

اسلام آباد: ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ کسی سفیر کو اپنے ملک میں کوئی سفارتی استثنیٰ نہیں ہوتا ہے. کسی بھی ملک کی ویزہ پالیسی وزارت داخلہ بناتی ہے.

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق ملک کی ویزہ پالیسی وزارت داخلہ بناتی ہے، حسین حقانی اور ویزہ معاملے پروزارت داخلہ سے رجوع کیا جائے.

حسین حقانی کو پاکستان میں سفارتی استثنیٰ سے متعلق سوال پرترجمان دفتر خارجہ نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ کسی سفیر کو اپنے ملک میں کوئی سفارتی استثنیٰ نہیں ہوتا ہے.

4 ملکی کور گروپ افغان مفاہمتی عمل میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے، روس نے افغان معاملے پر 6 ملکی گروپ کا اجلاس ماسکو میں بلایا ہے.

پاکستان اپریل میں ماسکو میں 6 ملکی اجلاس میں شرکت کرےگا۔

یاد رہے کہ گذشتہ روز پاک فوج کے تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے جاری اعلامیے میں ترجمان نے حسین حقانی کے آرٹیکل پر ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’’سابق سفیر کے منفی کردار کی اصلیت سامنے آگئی‘‘۔

واضح رہے کہ رواں ماہ مذکورہ بالا خبر کہ حوالے سے یہ خبر میڈیا کی زینت بنی پیپلزپارٹی کی حکومت نے 2010 میں دفتر خارجہ کی ہدایت کو نظر انداز کرکے ویزے جاری کیے، دفتر خارجہ نے سختی سے ہدایت کی تھی کہ کسی ممکنہ مشن پر پاکستان آنے کے خواہش مند سی آئی اے اہلکاروں کو ویزے جاری نہ کیے جائیں۔

 

پی پی دور حکومت: 3 برس میں‌ 52 ہزار امریکیوں‌ کو ویزا دینے کا انکشاف

 

پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں صرف 3 برس کے دوران 52 ہزار سے زائد امریکی باشندوں کو ویزے جاری ہونے کا انکشاف ہوا ہے ان میں سے صرف 2200 ویزے ڈیفنس اتاشی کی منظوری سے جاری ہوئے۔

دوسری جانب پیپلزپارٹی کے رہنما یوسف رضا گیلانی نے حسین حقانی کے معاملے پر خاموشی توڑتے ہوئے کہا تھا کہ ملکی سربراہ کو آئین اور قانون کی پابندی کے مطابق ویزے جاری کرنے کا اختیار حاصل ہوتا ہے، سابق سفیر کو ویزے اجرا کے لیے مشروط اختیارات دیے گئے تھے۔

سابق سفیر حسین حقانی کا آرٹیکل

 

دس مارچ 2017ء کو امریکی جریدے واشنگٹن پوسٹ میں حسین حقانی کی تحریر نے ملک میں ایک نئی بحث چھیڑ دی، ایک بار پھر اسامہ بن لادن کے خلاف آپریشن کے لیے پاکستان آنے والے امریکیوں کو ویزوں کے اجراء کا معاملہ اٹھا، وہ ویزے جو مبینہ طور پر سیکیورٹی اداروں کی کلیئرنس کے بغیر جاری کیے گئے۔

امریکا میں سابق سفیر حسین حقانی اس معاملے پر اپنا دفاع کرتے رہے، مگر اس دوران وزیر اعظم ہاؤس سے جاری شدہ جولائی 2010ء کا وہ خط منظر عام پر آگیا جس میں حکومت نے پاکستانی سفیر کو ایک سال کے لیے امریکیوں کو ویزے جاری کرنے کا صوابدیدی اختیار دیا تھا۔

حسین حقانی کا جواب آیا کہ ویزے انہوں نے جاری ضرور کیے مگر ڈیفنس اتاشی کی منظوری کے بعد، معاملہ پارلیمان پہنچا تو قومی اسمبلی اور سینیٹ سے معاملے کی تحقیقات کے لیے کمیشن بنانے کا مطالبہ بھی سامنے آ یا.

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top