The news is by your side.

Advertisement

اورماڑہ دہشت گردی‘ پاکستان نے احتجاجی مراسلہ ایرانی سفارت خانے کو بھجوا دیا

اسلام آباد: بلوچستان کے علاقے اورماڑوہ میں دہشت گردی کا واقعہ پر پاکستان نے احتجاجی مراسلہ ایرانی سفارت خانے کو بھجوا دیا، سانحے میں 10 پاک بحریہ، 3 پاک فضائیہ اور ایک کوسٹ گارڈ کا اہلکار شہید ہوئے تھے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق اورماڑہ میں دہشت گردی کرنے والوں کے خلاف کارروائی نہ کرنے پر پاکستان نے احتجاج کیا ہے ۔ مراسلے میں کہاگیاکہ کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائی کا پہلے بھی ایران سے کئی بارمطالبہ کر چکے ہیں۔

مراسلے میں کہا گیا کہ کالعدم تنظیموں کے گروپ کے خلاف کارروائی کے لیے پہلے بھی ایران سے کئی بار مطالبہ کیا جاچکا ہے، پاکستان اس سرگرمی سے متعلق ایران سے پہلے ہی انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ کرچکا تھا، بدقسمتی سے اس ضمن میں ایران کی جانب سے کوئی ایکشن نہیں لیا گیا۔

پاکستان کی جانب سے ایران کو دیے گئے مراسلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران سے تعلق رکھنے و الے دہشت گردوں کی جانب سے 14 افراد کا قتل انتہائی تشویش ناک ہے۔ ایران ان جماعتوں کے خلاف با ضابطہ کارروائی کرے ۔

دوسری جانب پاکستان میں حالیہ دہشت گرد حملے پر ایرانی وزیرخارجہ نے بھی اپنا بیان جاری کردیا۔ا یرانی وزیر خارجہ جواد ضریف نے کہاکہ پاکستان میں ہونے والے حالیہ دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کرتے ہیں۔جواد ظریف نے کہاکہ یہ حملہ وزیراعظم عمران خان کے دورہ ایران پرروانگی سے قبل کیا گیا، جس سے دہشت گردوں کے عزائم واضح ہوتے ہیں۔

جواد ظریف نے کہاکہ دہشت گرد، انتہا پسند اوران کے معاون دونوں مسلم ریاستوں کے تعلقات سے خوف زدہ ہیں۔ جواد ظریف نے کہاکہ ایران ،پاکستان کی حکومت اور عوام کے ساتھ کھڑا ہے اور خطے میں دہشت گردی کے سدباب کے لیے ہر ممکن تعاون کرے گا۔

پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اس تازہ پیش رفت کے بعد صحافیوں سے براہ راست گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ کوسٹل ہائی وے واقعے کی ذمہ داری بلوچ دہشت گرد تنظیموں نے قبول کی، ایسے علاقوں کی نشاندہی کرلی ہے جہاں ان عناصر کو تربیت دی جاتی ہے۔ ایرانی حکام کو ایسے علاقوں کے بارے میں آگاہ کردیا گیا ہے۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ایران سرحدی علاقے میں ٹریننگ کیمپوں کو ٹریس کیا گیا ہے، امید کرتے ہیں ایرانی حکام ان عناصر کے خلاف کارروائی کریں گے۔ ایران اور پاکستان کے دیرینہ اورمضبوط تعلقات ہیں۔ ہمارے پاس فرانزک ثبوت موجود ہیں جو شیئر کرسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایرانی وزیر خارجہ نے یقین دلایا ہے کہ ان عناصر کے خلاف کارروائی کریں گے، ایک بلوچستان دہشت گرد تنظیم بی آر آئی اے نے ذمہ داری قبول کی۔ افغانستان سے بھی ایکشن کی توقع کرتے ہیں۔

یاد رہے کہ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کل سے ایران کا دورہ کرنے والے ہیں جہاں وہ ایران کی سپریم سول اور عسکری قیادت سے ملاقاتیں کریں گے ، ملاقاتوں میں دہشت گردی ، پاک ایران گیس پائپ لائن سمیت کئی اہم معاملات پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں