The news is by your side.

سنگھنی قلعہ اور صاحبزادہ عبدالحکیم کا مزار

پاکستان کے طول و عرض میں سیر و سیاحت کی غرض سے جائیں‌ تو جہاں پُرفضا مقامات اور کئی یادگاریں دیکھنے کو ملتی ہیں، وہیں بادشاہوں کے محلّات کے علاوہ قدیم قلعے بھی ہماری توجہ اپنی جانب مبذول کروا لیتے ہیں۔ سنگھنی ایک ایسا ہی قلعہ ہے جو راولپنڈی سے آگے گوجر خان سے تقریباً 25 کلومیٹر دور موجود ہے۔

دو چھوٹی ندیوں کے سنگم پر نہایت ہی خوب صورت جگہ پر ایک پہاڑ کی چوٹی پر سنگھنی قلعہ واقع ہے۔ اس پہاڑ اور قلعے سے جن دیہات کا نظارہ کیا جاسکتا ہے، ان میں سوئی چیمیاں اور ڈھوک لاس قابلِ ذکر ہیں۔ ڈھوک لاس خود بھی ایک تاریخی مقام ہے جہاں‌ سترہویں صدی کا ایک قدیم قبرستان موجود ہے۔ اس قبرستان کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں مغل سپاہیوں کی تدفین کی گئی تھی جن کی قبریں خاص پتھر سے تیار کی گئی ہیں۔

سنگھنی قلعے کے بارے میں‌ مؤرخین کا کہنا ہے کہ اسے مغلوں نے تعمیر کروایا تھا، جس پر بعد میں ڈوگروں نے قبضہ کرلیا لیکن اس پر اختلاف ہے اور بعض روایات کے مطابق یہ قلعہ کشمیر کے ڈوگرہ راجاؤں نے ہی بنوایا تھا۔ اس روایت کی تفصیل میں‌ جائیں تو معلوم ہو گاکہ یہ علاقہ 1814ء میں مہاراجہ رنجیت سنگھ کے زیرِ نگیں آیا جس نے سنگھنی کے مقام پر یہ قلعہ تعمیرکروایا جس کا مقصد علاقے نگرانی اور یہاں سے خراج کی وصولی کا عمل آسان بنانا تھا۔ ماہرین کے مطابق سکھ دورِ حکومت میں قلعے کا کردار انتظامی رہا ہے۔ متحدہ ہندوستان میں انگریزوں نے اس قلعے کو جیل کیمپ کے طور پر استعمال کیا تھا۔

اس قلعے کی فصیلیں بلند اور ان کے تین اطراف قدرتی خندقیں کھدی ہوئی تھیں جب کہ قلعے کے دروازے پر چیک پوسٹیں قائم کی گئیں۔ قلعے کا مرکزی دروازہ مشرق کی طرف سے کھلتا ہے، اور سیڑھیاں قلعے کے اندر جانے کے لیے تعمیر کی گئی تھیں۔ ان سیڑھیوں کو پہاڑی پتھر سے بنایا گیا تھا جو آج بھی اچھی حالت میں ہیں۔

سنگھنی قلعے میں پانچ برجوں میں اوپر جانے کے لیے سیڑھیاں موجود ہیں۔ اس کے کونوں پر جو چار برج موجود ہیں، ان کا سائز یکساں جب کہ پانچواں برج قدرے چھوٹا رکھا گیا تھا۔ ان سے محافظ قلعے اور گرد و نواح پر نظر رکھتے تھے۔ قلعے کی دیواروں میں کئی روشن دان بنائے گئے ہیں جو ہوا کی آمد و رفت و یقینی بناتے ہیں جب کہ بندوقیوں کو ضرورت پڑنے پر نشانہ لگانے کے لیے سوراخ بھی بنے ہوئے ہیں۔

قلعے کے صحن کی طرف چلیں تو ایک کونے میں فرش میں چوکور سوراخ موجود ہے جب کہ اس قلعے میں کوئی خاص رہائشی کمرہ یا بیٹھک موجود نہیں ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس قلعے کو سپاہیوں کے قیام اور علاقے پر اپنا اثرو رسوخ برقرار رکھنے کی غرض سے بنایا گیا ہو گا۔ یہ راجاؤں کی قیام گاہ کے لیے استعمال نہیں ہوتا تھا۔

قلعے کے اندر داخل ہوتے ہی صاحبزادہ عبدالحکیم کا مزار نظر آتا ہے، جہاں آج بھی زائرین آتے ہیں۔ یہ بزرگ ڈوگرہ راج میں ایران کے راستے عراق سے یہاں دین کی تبلیغ کرنے آئے تھے اور یہاں‌ کئی لوگ ان کے مرید ہوئے۔ ان کی وفات کے بعد مریدوں نے یہ مزار تعمیر کیا جو پوٹھوہاری طرزِ تعمیر کی مثال ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں