The news is by your side.

Advertisement

بین الاقوامی سیاحتی انڈیکس میں پاکستان کی ریکنگ ایک درجہ بہتر

نیویارک : پاکستان میں سیاحت کو فروغ حاصل ہوا ہے اور عالمی سطح پر سیاحتی شعبے میں ایک درجے بہتر آگئی۔

ورلڈ اکنامک فورم کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق پاکستان سیر و سیاحت کے لحاظ سے بہترین ممالک کے انڈیکس میں پاکستان 136 ممالک میں سے 124 ویں نمبر پر آگیا ہے، 2015 میں پاکستان 125 ویں نمبر پر موجود تھا۔

اس انڈیکس پالیسی میں رولز، ریگولیشن، ماحولیاتی استحکام، تحفظ و سیکیورٹی، صحت و صفائی، سیاحت کو ترجیح، ائیرپورٹ ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر، زمینی ٹرانسپورٹ، ٹورازم انفراسٹرکچر، قیمتیں، انسانی وسائل، اور قدرتی و ثقافتی وسائل کو مدنظر رکھا گیا۔

پاکستان ایک سیاحتی ملک ہے جو دنیا بھرکے سیا حوں کی توجہ کا مرکز ہے، جس کو قدرت نے ہر قسم کے زمین و آب ہوا دی ہے۔ پاکستان میں مختلف لوگ، مختلف علاقوں کی زبانوں نے پاکستان کو بہت سے رنگوں کا گھر بنا دیا ہے، جس میں ریگستان، ہریالی علاقے،پہاڑ، جنگلات، گرم علاقے، سرد علاقے،خوبصورت جھیلے،جزائراوربہت کچھ ہیں۔

سال 2016 میں دس لاکھ سے بھی کم بین الاقوامی سیاحوں نے پاکستان کا رخ کیا لیکن ملک میں آنے والے سیاحوں کی بدولت ملکی معیشت میں فی کس 328.3 امریکی ڈالرجبکہ مجموعی طور پر30 کروڑ 17 لاکھ ڈالر آمد کا تخمینہ لگایا جارہا ہے، جو ملکی جی ڈی پی کا 2.8 فی صد حصہ بنتا ہے۔


مزید پڑھیں : پاکستان صرف ایک سال میں 7لاکھ غیر ملکی سیاحوں نے پاکستان کا رخ کیا، رپورٹ


رپورٹ کے مطابق ممالک کی ویزا پالیسی کی ریکنگ میں پاکستان کی بدترین پوزیشن ہے جہاں پاکستان کا 136 ممالک میں 135 واں نمبر ہے، جبکہ پاکستانی پاسپورٹ دنیا کے بدترین پاسپورٹ میں سے ایک ہے۔

پاکستان میں سالانہ 9سے10 لاکھ سیاح آتے ہیں، حکومت کی سیاحتی ترجیحات کی فہرست میں پاکستان 136 ممالک میں 132 نمبر پر ہے، پاکستان اپنے سیاحت کے شعبہ کو حقیقی صلاحیت کے مطابق ڈ یولپ نہیں کر سکا، سہولتوں کی عدم فراہمی ،امن و امان کی صورتحال اور حکومتی عدم تووجہ کے باعث ملک میں آنے والے سیاحوں کی تعداد میں اتار چڑھاؤ رہتا ہے۔

پاکستان میں 36 تہذیبی ثقافتی ورثہ کے مقامات ہیں ، جن کا نیچرل ایسٹس اسکور کی کیٹیگری میں 127 واں مقام ہے۔

ٹریول اینڈ ٹور کمپیٹیٹیو انڈیکس2017 میں اسپین، فرانس اور جرمنی سر فہرست ہیں لیکن ایشیا نے سیاحوں کے لیے موزوں ماحول کے باعث خطے کی بڑی معیشت کے طور پر پہلا نمبر حاصل کرلیا ہے، ایشیائی ممالک میں سیاحتی شعبے کے لئے پر کشش ممالک میں بھارت کا 40واں نمبر اور ٹاپ 30 میں چین، جنوبی کوریا،ہانگ کانگ ، جاپان اور ملائشیا شامل ہیں۔

ماہرین سیاحت کے شعبہ کی مستقبل کے حوالے سے پیشنگوئی کر رہے ہیں کہ 2030 تک عالمی سیاحوں کی تعداد میں سالانہ3.3فیصد اضافہ ہوگا، جس سے ان کی تعداد2030تک ایک ارب80 کروڑ تک پہنچ جائے گی۔

خیال رہے کہ سیاحت کی شعبے کا عالمی معیشت میں 7 کھرب اور 6 ارب ڈالر کا حصہ ہے، جو دنیا کی معیشت کا 10.2 فی صد بنتا ہے جبکہ 2016 میں 20 کروڑ 92 لاکھ روزگار کے مواقع پیدا ہوئے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں