The news is by your side.

Advertisement

6 ستمبر: ہر فرد نے اپنے گرد حبُ الوطنی کا حصار کھینچ لیا تھا

تاریخِ عالم گواہ ہے کہ 1965ء کی جنگ میں بھارت کی ایک لاکھ فوج کو 60 ہزار پاکستانی جوانوں پر مشتمل فوج نے شکست دی تھی اور بھارت کو یہ سبق دیا تھا کہ سامانِ حرب کی فراوانی اور میدانَ‌ جنگ میں عددی برتری فتح کی ضمانت نہیں‌ بلکہ زورِ بازو پر بھروسا، ہمّت و جذبہ، جوہرِ شجاعت اور یقین و ایمانِ کامل کے ساتھ سرحدوں کا دفاع کیا جاتا ہے جس سے وہ محروم ہے۔

ہر سال 6 ستمبر کو ہم یومِ دفاعِ پاکستان بڑے جوش و جذبے سے مناتے ہوئے اپنے فوجی جوانوں کی دلیری، شجاعت اور جنگ میں ان کی قربانیوں کی یاد تازہ کرتے ہیں۔

6 ستمبر ایک ایسا دن اور تاریخ ہے جس کا ہر لمحہ، ہر ساعت اپنی علیحدہ شناخت رکھتی ہے۔ یہی تو وہ دن ہے جب زندگی کا ہر شعبہ، ہر گوشہ اتحاد، یکجہتی اور یگانگت کی علامت بن گیا۔ سیاسی اختلافات طاقِ نسیاں پر رکھ دیے گئے۔ سارے دائیں بائیں بازو ایک دوسرے کا دست و بازو بن گئے۔ دینی راہ نما ایک صف میں کھڑے نظر آئے۔ شاعروں نے اپنے فن کے جوہر دکھائے۔ گانے والوں نے اپنی آواز کا جادو جگایا۔ اُفق تا بہ اُفق ہم نظری کے منظر ابھرے۔

آئیے ہم بتاتے ہیں کہ جنگ کا آغاز کب ہوا اور جارحیت کا ارتکاب کرنے والے بھارت کو کتنی ہزیمت اٹھانا پڑی۔

وہ عجیب دن تھا۔ ہر فرد ملّت کے مقدّر کا ستارہ بن گیا تھا۔ کیا تاجر، کیا صنعت کار، کیا پنساری، کیا پٹواری، کیا قصاب ایک ایک فرد نے اپنے گرد حبُ الوطنی کا حصار کھینچ لیا تھا۔

جنگِ ستمبر1965ء کا سبب بھی بھارت کے زیرِ تسلط مقبوضہ کشمیر تنازع تھا۔ تقسیمِ ہند کے بعد ہی سے بھارت نے بین الاقوامی برادری کے سامنے وادی سے متعلق اپنے وعدوں کی خلاف ورزی کا سلسلہ شروع کردیا تھا۔ بھارتی حکومت کی جانب سے مسلسل ایسے اقدامات کیے جارہے تھے جو بین الاقوامی سطح پر اس کی متنازع حیثیت کے بالکل برعکس تھے۔

کشمیر میں استصواب رائے کا وعدہ تو دوسری جانب مقبوضہ کشمیر کو بھارت کے وفاقی ڈھانچے میں شامل کرکے اپنا اٹوٹ انگ قرار دینا عالمی دنیا کی نظر میں بھی کھلی بدمعاشی اور متنازع حیثیت کے یکسر خلاف اقدامات تھے جب کہ اس کے بعد رن آف کچھ میں پاکستانی علاقے پر بھارت کی جانب سے حملہ نے پاکستان کو جوابی ردِ عمل ظاہر کرنے پر مجبور کردیا تھا۔ پاکستان ہمیشہ سے اس بات کا اعلان کرتا رہا کہ وہ مسئلہ کشمیر کا پرامن اور منصفانہ حل چاہتا ہے اور عالمی برادری کے سامنے کشمیر کے مسلمانوں کی‌ خواہش کے مطابق ان کے حق کے لیے آواز اٹھا رہا ہے، جب کہ بھارت وادی کشمیر پر اپنا قبضہ برقرار رکھنے اور اپنا اثر رسوخ بڑھانے کے لیے نہ صرف عالمی سطح پر ہونے والے معاہدوں کی خلاف ورزی کررہی تھی بلکہ اس نے مقبوضہ وادی میں ظلم و ستم اور بربریت کا سلسلہ بھی شروع کررکھا تھا۔

21 فروری 1965ء کو بھارت نے رن آف کچھ میں ایک بہت پرانے قلعے پر موجود پاک فوج کو یہاں سے نکال کر اس پر قبضہ کرنا چاہا تو پاکستان سے یہ پنجہ آزمائی مہنگی پڑی اور اس دوران منہ کی کھانے کے بعد بھارت نے اپنی اس شکست کا بدلہ لینے کے لیے جنگ چھیڑ دی۔

6 ستمبر 1965ء کو بزدل بھارتی فوج رات کی تاریکی میں للکارے بغیر ہماری سرحدوں کو پامال کرتے ہوئے علاقوں کو فتخ کرنے کا خواب لے کر حملہ آور ہوئی۔ میجر جنرل نرنجن پرشاد کی قیادت میں ٹینکوں کے 25 ویں ڈویژن اور توپ خانے کی مدد سے لاہور پر 3 اطراف سے حملہ کیا گیا تھا جس پر پاک فوج کے جاں بازوں نے مادرِ گیتی پر اپنی جانیں نثار کرنے کا عہد کیا اور سرحدوں پر ڈٹ گئے۔ اس جنگ میں بھارتی فوج بھاری جنگی ساز و سامان چھوڑ کر بھاگنے پر مجبور ہوگئی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں