The news is by your side.

Advertisement

ابوظبی میں تیل و گیس کی تلاش کا بڑا معاہدہ طے

اسلام آباد: پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ (پی پی ایل) کی قیادت میں ایک کنسورشیم نے ابوظبی میں ہونے والی بولیوں کے دوسرے مسابقتی مرحلے میں آف شور بلاک 5 حاصل کر لیا ہے۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق پی پی ایل کی قیادت میں کنسورشیم نے ابوظبی میں آف شور بلاک 5 حاصل کیا ہے، یہ بلاک چار بڑی پاکستانی کمپنیوں او جی ڈی سی ایل، پی پی ایل، ایم پی سی ایل اور جی ایچ پی ایل نے حاصل کیا، معاہدے پر کمپنیوں کے سی ای اوز، یو اے ای وزیر صنعت، ایم ڈی ابوظبی آئل کمپنی نے دستخط کیے، وفاقی وزیر توانائی حماد اظہر کی بھی تقریب میں شریک تھے۔

یہ کنسورشیم متعلقہ بلاک میں تیل و گیس کی تلاش کرے گا، تیل و گیس کی تلاش، ترقی اور پیداوار کے لیے اے ڈی این او سی کی طرف سے امارات کا یہ مسابقی بولی کا دوسرا مرحلہ ہے۔

یہ آف شور بلاک 6223 مربع کلومیٹر کے رقبے پر محیط ہے اور ابوظبی شہر سے 100 کلومیٹر شمال مشرق میں واقع ہے۔

وفاقی وزیرِ توانائی حماد اظہر نے کہا اگرچہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات طویل اور دوستانہ دوطرفہ تعلقات رکھتے ہیں، لیکن یہ ایوارڈ توانائی کے حوالے سے دونوں ملکوں کے لیے ایک نئی شروعات ہے، اس وقت جب ملک توانائی کی بڑھتی ہوئی طلب سے نمٹ رہا ہے، تعاون کے لیے اس طرح کے سنگ میل یقینی طور پر توانائی کی فراہمی اور طلب کے فرق کو کم کرنے میں ملک کے لیے مددگار ہوں گے۔

یو اے ای کے وزیر صنعت و ٹیکنالوجی اور ابوظبی نیشنل آئل کمپنی کے گروپ سی ای او ڈاکٹر سلطان احمد الجابر نے کہا دریافتی کنسیشن کا یہ تاریخی ایوارڈ متحدہ عرب امارات اور پاکستان کے 50 سالہ تعلقات میں توانائی کے تعاون کا ایک نیا باب ہے، ہم ابوظبی کے غیر دریافت شدہ وسائل کی تلاش اور پیداوار میں تیزی لاتے رہیں گے، اس کنسیشن کا حصول پاکستانی ای اینڈ پی کمپنیوں کے لیے ابوظبی میں تیل و گیس کے وسائل کی دریافت، تشخیص اور پیداوار کا پہلا موقع ہے۔

واضح رہے کہ اس معاہدے کی شرائط کے تحت کنسورشیم مذکورہ بلاک میں تیل و گیس کے مواقع، دریافت اور تجزیاتی کھدائی کے لیے تیل و گیس کے دریافتی مرحلے میں 100 فی صد شراکت کا حامل ہوگا۔ کامیاب تجارتی دریافت کی صورت میں کنسورشیم کو تجارتی دریافتوں کو پختہ کرنے اور ان سے پیداوار کے حصول کے لیے پیداواری فیلڈ حاصل کرنے کا حق ہوگا۔ اے ڈی این او سی کے پاس بھی کنسیشن کے پیداواری مرحلے میں 60 فی صد شراکت حاصل کرنے کا اختیار ہوگا۔ پیداواری مرحلے کی مدت، دریافت کے مرحلے کے آغاز سے 35 سال ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں