The news is by your side.

Advertisement

جارج ششم کی تصویر والے 19 ڈاک ٹکٹ

ایک زمانہ تھا جب دیارِ غیر میں مقیم اپنوں سے رابطہ کرنے، دور دراز مقام پر واقع اداروں، بیرونِ شہر اور اندرونِ علاقہ بھی کسی فرد یا ادارے تک اپنی بات، اہم معلومات، دستاویز پہنچانے کے لیے خط اور ڈاک کے نظام کا سہارا لیا جاتا تھا، لیکن پھر ٹیلی فون ایجاد ہوا اور اس کے بعد جدید دور میں‌ مختلف ذرایع سے رابطہ و ترسیل بے حد آسان ہو گئی۔

آج ڈاک کا رائج نظام پہلے کی طرح‌ ضروری اور اہم نہیں‌ رہا ہے، لیکن پاکستان پوسٹ وہ ملکی ادارہ ہے، جو قیامِ پاکستان کے وقت سے عوام کو خدمات فراہم کررہا ہے۔

پاکستان پوسٹ کی روایت رہی ہے کہ قومی دنوں اور اہم اور یادگار مواقع پر ہر سال مختلف اقسام اور مالیت کے ڈاک ٹکٹ جاری کرتا ہے۔

برطانوی راج میں تقسیم سے قبل ہندوستان میں ڈاک کے ٹکٹوں پر شاہ برطانیہ جارج ششم کی تصویر چھپی ہوتی تھی۔ آزادی کے بعد یکم اکتوبر 1947 کو حکومتِ پاکستان نے جارج ششم کی تصویر والے 19 ڈاک ٹکٹوں کو عارضی طور پر جاری رکھا، لیکن اس پر لفظ ’’پاکستان‘‘ طبع کردیا گیا تھا۔ ان ڈاک ٹکٹوں کی مالیت 3 پائی سے 25 تک تھی۔

پاکستان کا پہلا ڈاک ٹکٹ جولائی 1948 میں جاری کیا گیا جو حکومتِ پاکستان نے طبع کروایا اور اس کے ساتھ باقاعدگی سے ڈاک کا نظام چلایا جس کے تحت اہم قومی دنوں، شخصیات اور دوسرے یادگاری مواقع پر ڈاک ٹکٹ جاری کیے جانے لگے۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں