The news is by your side.

Advertisement

منی لانڈرنگ کے الزام پر پاکستان کو گرے لسٹ میں ڈالا گیا: شہزاد اکبر

لاہور: وزیر اعظم کے معاون خصوصی شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ 12 کروڑ کے صوبے کا سربراہ منی لانڈرنگ میں ملوث ہو تو ملک گرے لسٹ میں جائے گا، منی لانڈرنگ کے الزام پر پاکستان کو گرے لسٹ میں ڈالا گیا۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق آج لاہور میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے شہزاد اکبر نے کہا کہ 2018 میں حالت یہ تھی کہ ہم گرے سے بلیک لسٹ میں جا رہے تھے، بلیک لسٹ ہونے کے بعد کوئی ملک دوائیں تک باہر سے نہیں منگوا سکتا۔

انھوں نے کہا بلیک لسٹ ہونے کے بعد ہماری حالت ایران جیسی ہو جاتی، سب کی مشاورت کے بعد ایف اے ٹی ایف سے متعلق طریقہ کار اختیار کیا گیا، منی لانڈرنگ کے الزام پر پاکستان کو گرے لسٹ میں ڈالا گیا، کہا گیا کہ پاکستان میں منی لانڈرنگ سے نمٹنے کا بہتر نظام نہیں، یہاں فالودے والے کے نام پر اربوں روپے باہر بھیجے گئے۔

شہزاد اکبر کا کہنا تھا اس چیز کو عالمی سطح پر محسوس کیا گیا اور ہم سے چیزیں ٹھیک کرنے کا مطالبہ کیا گیا، ہم نے اس پر اقدامات کرنا شروع کیے، پہلے قانون کو آرڈیننس کی شکل میں لائے، منی لانڈرنگ کو تحریک انصاف پوری دنیا کی طرح دیکھتی ہے، منی لانڈرنگ تمام جرائم کی ماں ہے، ہر جرم کے پیچھے منی لانڈرنگ ہوتی ہے جو بہت سنگین ہے، لیکن اپوزیشن کا اس بارے میں خیال کچھ اور ہے، اپوزیشن کے نزدیک منی لانڈرنگ کوئی سنگین جرم نہیں۔

انھوں نے کہا ہمیں اپنے اقدامات سے بتانا ہے کہ ہم منی لانڈرنگ کو سنگین جرم سمجھتے ہیں، ایف اے ٹی ایف نے ہمیں قانون سازی کی فہرست دی ہے، گرے لسٹ سے نکلنے اور منی لانڈرنگ روکنے کے لیے قانون سازی لازمی ہے، یہ ذاتی نہیں ملکی مفاد میں ہونی چاہیے، بد قسمتی سے ملک کے حکمران منی لانڈرنگ میں ملوث رہے۔

معاون خصوصی کا کہنا تھا نواز شریف کی حیثیت سزا یافتہ مفرور شخص کی ہے، ان کے مفرور ہونے سے متعلق برطانیہ کو بھی آگاہ کیا گیا، ایسا شخص لندن کی سڑکوں پر گھوم پھر رہا اور مزے اڑا رہا ہے، انھیں واپس لانے کے لیے تمام قانونی طریقے اختیار کیے جائیں گے۔

انھوں نے کہا نواز شریف نے بیرون ملک رہ کر اپنے علاج کی کوئی اطلاع نہیں دی، شہباز شریف ذمہ داری کا ثبوت دیں اور بھائی کو پیش کریں۔

واضح رہے کہ العزیزیہ ریفرنس میں نواز شریف کی سزا کے خلاف اپیل سماعت کے لیے مقرر ہو گئی ہے، نواز شریف کی سزا بڑھانے کے لیے بھی نیب کی اپیل سماعت کے لیے مقرر ہو گئی، اس کے علاوہ فلیگ شپ ریفرنس میں بریت کے خلاف اپیل بھی سماعت کے لیے مقرر ہو گئی، اسلام آباد ہائی کورٹ کا دو رکنی بینچ یکم ستمبر کو اپیلوں پر سماعت کرے گا۔

ادھر وزیر ریلوے شیخ رشید کا کہنا ہے کہ نواز شریف کو ملک واپس لانا آسان کام نہیں، نواز شریف اتنے بھولے نہیں کہ شہباز جیسی غلطی کریں، عمران خان نواز شریف کو باہر بھیج کر پچھتا رہے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں