The news is by your side.

Advertisement

فیٹف کا پاکستان کو گرے لسٹ میں برقرار رکھنے کا فیصلہ

پیرس: منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کی روک تھام کے عالمی ادارےفنانشل ایکشن ٹاسک فورس (فیٹف) نے ایک بار پھر پاکستان کو گرے لسٹ میں برقرار رکھنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو رواں سال جون تک گرے لسٹ میں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ فیٹف اجلاس میں پاکستان کو جون تک اہداف حاصل کرنے کا وقت دیا گیا ہے۔

ایف اے ٹی ایف کے مطابق 27 میں سے 26 نکات پر پاکستان نے کام کر لیا ہے، آئندہ پاکستان کی کارکردگی کا جائزہ جون میں لیا جائے گا۔

گزشتہ سال اکتوبر میں ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو فروری 2022 تک گرے لسٹ میں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ ایف اے ٹی ایف کے صدر ڈاکٹر مارکوس پلییئر نے تین روزہ اجلاس کے بعد ورچوئل کانفرنس میں کہا تھا کہ پاکستان نے 34 میں سے 30 شرائط پوری کرلیں، پاکستان نے منی لانڈرنگ روکنے کے لیے اچھے اقدامات کیے۔

فیٹف کا کہنا تھا کہ پاکستان کو استغاثہ اور قانون سازی میں مزید کام کرنے کی ضرورت ہے، اقوام متحدہ کے بلیک لسٹ افراد کے خلاف پاکستان کارروائی کرے۔

برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق 2018 میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل کیا تھا۔ سال 2018 میں جب پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل کیا گیا تو پاکستان کے مالی نظام اور قوانین کو ایف اے ٹی ایف کی 40 میں سے 13 سفارشات کے مطابق پایا گیا جب کہ باقی 27 سفارشات پر عمل درآمد کرنے کے لیے ایک سال کا وقت دیا گیا تھا۔

فروری 2020 تک پاکستان صرف 14 سفارشات پر ہی عمل درآمد کر سکا لہٰذا ایف اے ٹی ایف نے اکتوبر 2020 تک کا مزید وقت دیا تاکہ باقی 13 سفارشات پر بھی عمل درآمد کروایا جا سکے۔ اکتوبر 2020 میں ہونے والے ایف اے ٹی ایف کے اجلاس میں 6 سفارشات پر عمل درآمد کو غیر اطمینان بخش قرار دیا اور چار ایسے شعبوں کی نشاندہی کی جس میں مزید کام درکار تھا اور اس کے لیے پاکستان کو فروری 2021 تک کا اضافی وقت فراہم کیا۔

فروری2021 میں ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو باقی تین نکات پر عمل کرنے کے لیے چار ماہ (جون2021 تک) کی مہلت دی۔ جون2021 تک پاکستان نے 27 میں سے 26 نکات پر عمل درآمد کیا۔ 25 جون2021 کو ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو مزید وقت کیلئے گرے لسٹ میں رکھتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے 27 میں سے 26 نکات پر عمل درآمد کیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں