بدھ, فروری 26, 2025
اشتہار

پاکستان اسٹینڈرڈز کوالٹی کنٹرول اتھارٹی میں کئی سال سے قائم مقام ڈی جی کی تعیناتی کیوں نہ ہو سکی؟

اشتہار

حیرت انگیز

اسلام آباد: وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے ذیلی ادارے پاکستان اسٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی (پی ایس کیو سی اے) کے قائم مقام ڈی جی کی تعیناتی کے کیس میں عدالت نے 3 ہفتے کی مہلت کی استدعا منظور کر لی۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں آج پی ایس کیو سی اے میں سینئر افسر ڈاکٹر شہزاد افضل کی جگہ جونیئر افسر کی قائم مقام ڈی جی تعیناتی کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی، پرنسپل سیکریٹری اور سیکریٹری کابینہ کی جانب سے قائم مقام ڈی جی کی تعیناتی کے لیے 3 ہفتے کی مہلت مانگی گئی جو عدالت نے منظور کر لی۔

عدالتی حکم پر وزیر اعظم کے پرنسپل سیکریٹری اسد الرحمان گیلانی عدالت میں پیش ہوئے، جسٹس بابر ستار نے کہا آپ پرنسپل سیکریٹری ہیں، کیا عدالت میں پیش ہوتے آپ کی انا مجروح ہوتی ہے، پرنسپل سیکریٹری نے کہا میں ایک اہم میٹنگ میں تھا آپ کا پیغام ملتے ہیں پہنچا، معذرت کرتا ہوں۔

جسٹس بابر ستار نے کہا سیکریٹری صاحب ہمیں سیکریٹریوں کو بلانے کا شوق نہیں، آپ معاملات چلاتے ہیں اس لیے بلاتے ہیں، ہر دو ماہ بعد کیس لگتا ہے، یہ ہمارے لیے بھی باعث شرمندگی ہے۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت سے استدعا کی کہ تعیناتی کے لیے ایک آخری مہلت دی جائے، پرنسپل سیکریٹری نے کہا ایک ایجنسی نے رپورٹ دے دی ہے، ایک کی رپورٹ آنی ہے، وہ آتے ہی آرڈر کر دیں گے۔

لاہور ہائی کورٹ میں ایک شخص نے پیٹرول چھڑک کر خود کو آگ لگالی

عدالت نے استفسار کیا اس میں کتنا وقت لگے گا، سیکریٹری کابینہ نے کہا 2 سال سے معاملہ زیر التوا ہے، میرے علم میں نہیں تھا، جسٹس بابر ستار نے کہا دو نہیں 4 سال سے معاملہ زیر التوا ہے، مزید کتنا وقت لگے گا، سیکریٹری نے کہا 3 ہفتے لگ جائیں گے، دوسری رپورٹ آتے ہی سمری بھجوا دیں گے۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل، سیکریٹری وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ساجد بلوچ اور سیکریٹری کابینہ کامران علی افضل اس کیس میں عدالت میں پیش ہوئے، عدالت نے قائم مقام ڈی جی پاکستان اسٹینڈرڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی کی تعیناتی کے لیے حکومت کو 3 ہفتوں کا وقت دے دیا، اور کیس کی سماعت تین ہفتوں بعد تک ملتوی کر دی۔

اہم ترین

مزید خبریں