کلبھوشن کیس: پاکستان عالمی عدالتِ انصاف میں آج جواب جمع کرائے گا kalbushan jadhav
The news is by your side.

Advertisement

کلبھوشن کیس: پاکستان آج عالمی عدالتِ انصاف میں جواب جمع کرائے گا

اسلام آباد: دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ پاکستان کی جانب سے عالمی عدالتِ انصاف میں کلبھوشن کیس کا جواب جمع کروایا جائے گا۔

دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر فیصل کا کہنا ہے کہ کلبھوشن کیس میں پاکستان کی جانب سے عالمی عدالتِ انصاف کے ڈائریکٹرفاریہ بگٹی میں جواب جمع کروایا جائے گا۔

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ سابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس تصدق حسین جیلانی 12 دسمبر کو عالمی عدالتِ انصاف میں ہونے والی سماعت میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔

واضح رہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسی کے اہلکار کلبھوشن کو 3 مارچ 2016 کو بلوچستان سے گرفتار کیا گیا تھا، دورانِ تفتیش بھارتی جاسوس نے انکشاف کیا تھا کہ اُس نے پاکستان میں بدامنی پھیلانے کے لیے بلوچستان اور کراچی میں کئی لوگوں سے رابطے کیے اور دہشت گردی کی کارروائیاں کروائیں۔

اسی سے متعلق: پاکستان نے بھارتی دہشتگرد کلبھوشن کی اہلیہ اور والدہ کو ویزے جاری کر دئیے

بھارتی جاسوس کا مقدمہ فوجی عدالت میں چلایا گیا جہاں اُسے پھانسی کی سزا سنائی گئی، آرمی چیف آف اسٹاف نے کلبھوشن کی پھانسی کے حکم نامے پر دستخط کیے تھے۔

بھارتی جاسوس نے دورانِ حراست اپنے گھناؤنے جرائم کا اعتراف کیا جس کی ویڈیوز جاری کی گئیں، پاکستان کی فوجی عدالت سے پھانسی کی سزا سنائے جانے کے بعد بھارت نے اپنے جاسوس کو بچانے کے لیے 10 مئی کو عالمی عدالت انصاف کا دروازہ کھٹکھٹایا اور سزائے موت پر عملدرآمد روکنے کی درخواست دائر کی تھی۔

عالمی عدالتِ انصاف نے کلبھوشن کیس میں اپنا فیصلہ سناتے ہوئے پاکستان کو پابند کیا تھا کہ وہ کلبھوشن کو قونصلر رسائی کا اختیار  دے اور عالمی عدالت کا مکمل فیصلہ آنے تک کلبھوشن کی سزائے موت پر عملدرآمد نہ کرنے کا حکم جاری کیا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستانی ہائی کمشنر کی سشما سوراج سے ملاقات ، ایک بار پھر کلبھوشن کے معاملے پر نظرثانی کا مطالبہ

پاکستان کی جانب سے عدالت کو آگاہ کیا گیا تھا کہ بھارتی دہشت گرد نے متعدد کارروائیوں کا خود اعتراف کیا لہذا ایسے شخص کو کسی قسم کی رسائی نہیں دی جاسکتی۔

یاد رہے کہ بھارتی جاسوس نے آرمی چیف سے رحم کی اپیل کی تھی جسے جنرل قمر جاوید باجوہ نے مسترد کردیا تھا ساتھ ہی آئی ایس پی آر نے کلبھوشن کے اعترافی بیان کی دوسری ویڈیو بھی جاری کی تھی۔

کلبھوشن نے دوسرے اعترافی بیان میں کہا تھا  کہ میں بھارتی بحریہ میں کمیشنڈ آفیسر ہوں، میری عرفیت حسین مبارک پٹیل ہے، میں ایرانی بندرہ گاہ چاہ بہار میں رہ رہا اور وہاں کامنڈا ٹریڈنگ کمپنی کے نام سے کاروبار کیا۔

اسے بھی پڑھیں: کلبھوشن: عالمی عدالت جانے کا کوئی فائدہ نہیں، بھارتی میڈیا کا اعتراف

یادیو نے بتایا تھا کہ  بھارتی خفیہ ایجنسی را نے اس بات کو محسوس کرلیا تھا کہ سال 2014ء میں نریندری مودی کی حکومت ہوگی اس لیے میری خدمات ہندوستان کے خفیہ ادارے را کے سپرد کردی گئیں تھیں۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں