The news is by your side.

Advertisement

’حویلی میں بچے کے رونے کی آوازیں‘: اداکاروں کے ساتھ پیش آنے والے پُراسرار واقعات

پاکستان کی شوبز انڈسٹری کے نامور اداکاروں نے شوٹنگ کے دوران اپنے ساتھ پیش آنے والے پراسرار واقعات پر پہلی بار خاموشی توڑتے ہوئے حقیقت بیان کردی۔

فلموں اور ڈاموں میں کچھ مناظر عکس بند کرنے کے لیے ڈائریکٹر کی جانب سے پُراسرار مقامات کا انتخاب کیا جاتا ہے جہاں بعض اوقات اداکاروں کے ساتھ اکثر حقیقی اور خوفناک واقعات رونما ہوتے ہیں۔

نامور فنکاروں نے اپنے ساتھ شوٹنگ کے دوران پیش آنے والے لرزہ خیز واقعات بیان کیے جن میں انہیں پراسرار شے کی موجودگی یا آوازوں کا احساس ہوا۔

فنکاروں نے اپنے ساتھ پیش آنے والے حقیقی واقعات کا احوال بیان کیا جو خود اُن فنکاروں اور مداحوں کے لیے پریشان کُن ہے کیونکہ اس طرح کی باتیں میڈیا انڈسٹری میں ابھی تک سامنے نہیں آئیں۔

ہمایوں سعید کے ساتھ کیا واقعہ پیش آیا؟

دو دہائیوں سے میڈیا انڈسٹری پر راج کرنے والے باصلاحیت اداکار ہمایوں سعید نے نجی ادارے کی ویب سائٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ اُن کے ساتھ ویسے تو کبھی ایسے واقعات پیش نہیں آئے جن میں پُراسرار مخلوق نظر آئی ہو۔

ہمایوں سعید نے بتایا کہ ایک ’آسیب زدہ‘ حویلی میں ہماری فلم کی شوٹنگ جاری تھی جہاں مجھ سمیت دیگر لوگوں نے بچے کے رونے کی آوازیں سُنیں جبکہ ہمارے ایک کریو کو کسی نے باہر پھینک دیا تھا‘۔

بعد ازاں ہم اُس حویلی سے نکلے اور وہاں پر شوٹنگ کا ارادہ منسوخ کیا۔

یاسر حسین

اداکار یاسر حسین نے بتایاکہ وہ دو کمروں کے اپارٹمنٹ میں رہتے تھے، جس کا ایک کمرہ اُن کے زیر استعمال تھا جبکہ دوسرے میں ایک بزرگ رہتے تھے جو نظر آتے تھے مگر انہوں نے کبھی تنگ نہیں کیا، جب میرے دوست گھر آتے تو وہ فجر کی نماز کے وقت کمرے میں آکر نماز پڑھنے کا ضرور کہتے تھے۔

’وہ باورچی خانے میں جاکر برتن ادھر اُدھر کرنا شروع کردیتے جس سے شور ہوتا تھا اور جب میں انہیں یہ بتاتا تھا کہ دوست چلے گئے تو شور ختم ہوجاتا تھا،اس واقعے سے مجھے تو کوئی ڈر نہیں لگا مگر ہاں میرے دوست خوفزدہ ہوگئے تھے‘۔

یاسر حسین نے اپنے ساتھ پیش آنے والا دوسرا واقعہ بیان کرتے ہوئے بتایا کہ ’ہم ایک ڈرامے کی شوٹنگ کراچی کے علاقے پی ای سی ایچ ایس میں کررہے تھے تو اسی دوران شوٹنگ رُک گئی اور چیزیں خود بہ خود حرکت کرنے لگیں تھیں‘۔

’ایک روز  خاتون (گھر کی مالکن) آئیں اور اسٹاف سے کہا کہ شوٹنگ کے دوران اُن کے بچے کی دیکھ بھال کریں، اسٹاف نے جب بچے سے متعلق پوچھا تو خاتون نے بتایا وہ گھر کے اندر ہی رہتا ہے‘۔

اداکار کا کہنا تھا کہ ہمیں اس بات کا بعد میں علم ہوا کہ گھر میں ایک شخص نے خودکشی کرلی تھی جس کے بعد وہ عورت اس مکان کو کرائے پر دے کر چلی گئی تھی۔ یاسر حسین نے مزید وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ ’میری زندگی میں غیر معمولی واقعات ہوتے رہے ہیں مگر مجھےکبھی کسی چیز سے خوف محسوس نہیں ہوا‘۔

اشنا شاہ

اداکارہ اشنا شاہ نے بتایا کہ ’ہم کراچی کے علاقے صدر میں واقع قدیم عمارت میں شوٹنگ کررہے تھے، یہ عمارت تقسیم سے قبل تعمیر کی گئی تھی جہاں بہت پرانا فرنیچر رکھا ہوا تھا، یہاں ایک میز تھی جس پر کپڑا پڑا ہوا تھا، اُس پر کتابیں موجود تھیں اور وہاں ایک گڑیا کا سر بھی پڑا ہوا تھا، یہ کمرہ آرام کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا‘۔

’رات تین بجے کے قریب شوٹنگ جاری تھی کہ میں اپنی ساتھی کے ساتھ اُسی کمرے میں گئی تو اُس نے مذاق میں بولا دیکھو وہ گڑیا تمھیں دیکھ رہی ہے، میں نے اس بات کو نظر انداز کیا اور چلی گئی مگر جب تیسری بار کمرے میں آئی تو اُس کا ہاتھ اٹھا ہوا تھا‘۔

یہ منظر دیکھنے کے بعد ہم نے فوری طور پر شوٹنگ منسوخ کی اور عمارت سے باہر نکل گئے۔

اداکارہ یمنیٰ زیدی

اداکارہ یمنی زیدی نے بتایا کہ ’میں نیپال میں ایک ڈرامے کی شوٹنگ کے لیے ویرانے علاقے میں بنے ہوٹل کے کمرے میں مقیم تھی، میں اُس وقت بہت خوش تھی کیونکہ دوسرا ڈرامہ بھی جاری تھا، میں نے ایک اداکارہ سے ڈرامے میں کام نہ کرنے کی وجہ پوچھی تو اُس نے بتایا کہ وہ بھی اسی کمرے میں مقیم تھی‘۔

’اُس نے بتایا کہ جب وہ بیدار ہوئی تو کمرے کی تصویر اُس کے موبائل میں موجود تھی‘۔

زارا نور عباس

اداکارہ زارا نور عباس نے خود کو بڑا جن قرار دیتے ہوئے تاثر دیا کہ انہیں غیرمرئی مخلوق سے ڈر نہیں لگتا۔ ساتھ ہی انہوں نے اپنے ساتھ پیش آنے والا واقعہ بھی بیان کیا۔

’جب ہم فلم کی شوٹنگ میں مصروف تھے تو اُس دوران میں نے کام روک دیا جس پر عدنان انصاری نے سب کے ساتھ مذاق شروع کیا مگر ڈائریکٹر عاصم رضا کو اس بات پر تشویش ہوئی۔

زارا نور عباس کا کہنا تھا کہ ’ایک اور بار ایسا ہوا کہ میں باتھ روم گئی اور دروازہ بند ہوگیا تھا، جس کے بعد میں نے زور زور سے دروازہ پیٹا تو اداکار شہریار منور اور ہانی سمجھے کہ اندر شاید جن ہے جو شور مچا رہا ہے‘۔

Comments

یہ بھی پڑھیں