The news is by your side.

Advertisement

“سہیلی” جس نے مشہور اداکارہ شمیم آرا کو احتجاج پر مجبور کردیا

پاکستان میں ہر لحاظ سے کام یاب قرار دی جانے والی فلموں میں سے ایک “سہیلی” بھی ہے جو 23 دسمبر 1960ء کو نمائش کے لیے پیش کی گئی تھی۔

حکومتِ پاکستان نے اس سال صدارتی ایوارڈ کا اجرا کیا تھا اور اسی برس سہیلی بھی ریلیز ہوئی جس نے مختلف زمروں میں پانچ ایوارڈ اپنے نام کیے۔

اس فلم کے پروڈیوسر ایف ایم سردار تھے، جب کہ اس کی کہانی حسرت لکھنوی نے لکھی تھی اور اس کے ہدایت کار ایس ایم یوسف تھے۔ سہیلی کی موسیقی اے حمید کی ترتیب دی ہوئی تھی اور فلم کے نغمہ نگار فیاض ہاشمی تھے۔

سہیلی میں مرکزی کردار معروف اداکارہ شمیم آرا، نیر سلطانہ، ببّو، رخشی، درپن اور اسلم پرویز نے نبھائے تھے۔

اس فلم کو پانچ ایوارڈز میں بہترین فلم، بہترین ہدایت کار، بہترین اداکارہ، بہترین معاون اداکار اور بہترین معاون اداکارہ کے ایوارڈز دیے گئے۔ شمیم آرا نے بہترین اداکارہ کا ایوارڈ اپنے نام کیا جب کہ طالش اور نیر سلطانہ کو معاون اداکار کے ایوارڈ ملے۔

یہ پاکستانی سنیما کی وہ یادگار فلم ثابت ہوئی جسے بعد میں چار نگار ایوارڈ بھی دیے گئے۔

یہاں یہ بات دل چسپی سے خالی نہیں‌ کہ صدارتی ایوارڈ میں شمیم آرا کو بہترین اداکارہ کا اور نیر سلطانہ کو بہترین معاون اداکارہ کا ایوارڈ ملا تھا جب کہ نگار ایوارڈ میں نیر سلطانہ نے بہترین اداکارہ کا اور شمیم آرا بہترین معاون اداکارہ کا ایوارڈ حاصل کیا اور اسی پر ایک تنازع بھی سامنے آیا۔ اس ایوارڈ کو شمیم آرا نے احتجاجا قبول کرنے سے انکار کر دیا۔

ایس ایم یوسف کو بہترین ہدایت کار اور اداکار درپن نے بہترین اداکار کا نگار ایوارڈ بھی حاصل کیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں