site
stats
اہم ترین

حافظ سعید اور مسعود اظہر کے خلاف ثبوت ہیں تو بات کی جائے، عبدالباسط

نئی دہلی : بھارت میں تعینات پاکستانی ہائی کمشنر عبدالباسط نے کہا ہے کہ بھارت کے ساتھ غیرمشروط مذاکرات کے لیے تیار ہیں، بھارت سے مذاکرات کرنا ہماری طاقت ہے کمزوری نہیں، سرتاج عزیز ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کے لیے بھارت آرہے ہیں لیکن اس دوران بھارت سے ملاقات طے نہیں ہوئی۔

جنگیں کرکے دیکھ لیا، اب مذاکرات کرنا ہوں گے

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ کے ذریعےبات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت کے ساتھ غیرمشروط مذاکرات کے لیے تیار ہیں، ہم نے جنگیں کر کے دیکھ لیا اب اگر مسائل کا حل چاہیے تو مذاکرات کرنا ہوں گے، ہم بات چیت کرنا چاہتے ہیں تو یہ ہماری طاقت ہے کمزوری نہیں۔

جو بھی مذاکرات ہوں وہ نتیجہ خیز ہوں

عبدالباسط کا کہنا تھا کہ ہم نے کئی دہائیوں میں بہت سے ایسے فریم ورک بنائے ہیں کہ تمام ایشوز پر بات چیت ہو تاہم ہماری بنیادی شرط یہ ہے کہ مذاکرات جامع ہونے چاہئیں اور تمام معاملات پر بات چیت کی جائے،’جو بھی مذاکرات ہوں وہ کسی نتیجہ خیز ہوں۔

مذاکرات کے لیے شرطیں ہم بھی عائد کرسکتے ہیں

پاکستائی ہائی کمشنر نے کہا کہ دہشت گردی کا الزام عائد کرکے مذاکرات معطل کرنے کی شرائط ہماری جانب سے بھی عائد کی جاسکتی ہیں، ہم جموں اور کشمیر کی صورتحال، سیاچن سے فوجیں ہٹانے جیسی شرائط بھی عائد کرسکتے ہیں،لیکن جو بھی مشکل یا مسئلہ ہے وہ خلا میں طے نہیں ہوسکتا اس کے لیے سامنے بیٹھ کر میز پر مذاکرات کرنے ہوں گے۔

مذاکرات نہ ہونے پر دونوں ممالک ترقی نہیں کرپارہے

عبدالباسط کا کہنا تھا کہ مذاکرات میں تعطل کے سببب دونوں ممالک ترقی نہیں کر پا رہے، مذاکرات جنوبی ایشیا اور پوری دنیا کی ضرورت ہیں اس کے لیے ہم نے پہلے بھی انتظار کیا تھا اب بھی کریں گے۔

حافظ سعید اور مسعود اظہر کے خلاف ثبوت ہیں تو بات کریں

حافظ سعید اور مولانا مسعود اظہر سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ایک عدالتی نظام موجود ہے اور ممبئی حملے اور دیگر کارروائیوں کے حوالے سے مقدمات عدالتوں میں زیر سماعت ہیں،اگر کوئی ثبوت ہے تو ہمارے ساتھ شیئر کیا جائے ہم کارروائی کرنے کے لیے تیار کریں، اگر ثبوت نہیں ہیں تو یہ عمل الزام برائے الزام ہی ہوگا۔

بھارت سے تعلقات میں بہتری ہمیشہ سے پالیسی ہے

نئے آرمی چیف سے متعلق سوال پر عبدالباسط نے کہا کہ ریاست کی پالیسی ہمیشہ یہ رہی ہے کہ انڈیا کے ساتھ تعلقات کو بہتر کیا جائے،پاکستان نہیں چاہتا تھا کہ ایل او سی پر کشیدگی ہو،مغربی سرحد پر بھی کشیدگی ہے اس لیے نیا محاذ نہیں کھولنا چاہتے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top