site
stats
خواتین

اسکاٹ لینڈ یارڈ میں پہلی پاکستانی نژاد خاتون اہلکار

لندن: ایک پاکستانی نژاد خاتون شبنم چوہدری کو برطانوی تفتیشی ایجنسی اسکاٹ لینڈ یارڈ میں تفتیشی سپرنینڈنٹ مقرر کردیا گیا۔ وہ اس عہدے پر فائز ہونے والی پہلی مسلمان خاتون ہیں۔

شبنم چوہدری 2 سال کی عمر میں اپنے خاندان کے ساتھ کراچی سے برطانیہ منتقل ہوگئیں تھی۔ انہوں نے سنہ 1989 میں لندن پولیس میں شمولیت اختیار کی۔

وہ بتاتی ہیں، ’میرے والدین چاہتے تھے کہ میں جلد شادی کرلوں اور سیٹل ہوجاؤں۔ لیکن مجھے اس پر اعتراض تھا چنانچہ میں نے پولیس میں شمولیت اختیار کی، اس وقت بہت کم مسلمان اور ایشیائی لڑکیاں اس شعبے کی طرف جاتی تھیں‘۔

وہ بتاتی ہیں کہ جب میرے والدین نے مجھے دیکھا کہ میں جرائم کے خلاف لڑ رہی ہوں اور لوگوں کی مدد کر رہی ہوں تو وہ بہت خوش ہوئے اور مجھ پر فخر کرنے لگے۔

شبنم اپنے 28 سالہ پولیس کیریئر میں بہت سے مشکل ٹاسک اور آپریشنز سر انجام دے چکی ہیں جن کے اعتراف میں انہیں کئی اعزازات سے بھی نوازا گیا ہے۔

شبنم گزشتہ 6 برسوں سے اسکاٹ لینڈ یارڈ سے منسلک ہیں اور اب تفتیشی سپرنینڈنٹ کے عہدے پر فائز ہونے کے بعد وہ بے حد خوش ہیں۔

مزید پڑھیں: پاکستانی خاتون کے لیے کینیڈا کی بہترین ماہر تعلیم کا اعزاز

وہ کہتی ہیں، ’اپنی نوکری کے دوران مجرموں سے لڑائی کرتے ہوئے میں نے دھکے، لاتیں اور چوٹیں بھی کھائیں، کئی مجرموں نے میرا پیچھا کر کے مجھ پر حملہ بھی کیا۔ لیکن میں نے کبھی اس شعبے کو چھوڑنے کا نہیں سوچا‘۔

شبنم چاہتی ہیں کہ بیرون ملک رہائش پذیر ایشیائی اور مسلمان لڑکیاں اس شعبے میں بھی آئیں تاکہ مغربی دنیا میں اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں پھیلے ہوئے نظریات کو تبدیل کیا جا سکے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2017 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top