The news is by your side.

Advertisement

جیل کے نام پر سیاست دان بیمار پڑ جاتے ہیں

ہمارے ہاں سیاستدانوں کلچر میں جیل جانا اور وہاں رہنا کوئی غیر معمولی بات نہیں سمجھی جاتی لیکن سیاست دان جیل کے نام پر کیا کچھ کرتے ہیں اور وہاں جا کر فوری بیمار کیوں ہو جاتے ہیں۔

سیاست دانوں کی پرانی روایت ہے، جس بھی سیاسی رہنما کو جیل ہوتی ہے یاجیل جانےکا خدشہ ہو، وہ بیمار ہو جاتا ہے۔

ابھی کچھ روز پہلے تک ہشاش بشاش رہنے والے نواز شریف جیل جاتے ہی بیمار پڑگئے، طبی معانئے کے لئے میڈیکل ٹیم اڈیالہ جیل پہنچ گئی، ٹیسٹ نتائج کی بنیاد پر نوازشریف کی اسپتال منتقلی کا فیصلہ ہوگا۔

نواز شریف کے قریبی ساتھی اسحاق ڈار کرپشن کیس چلنے پر لندن گئے وہ وہاں جاکر بیمار ہوگئے اور پھر بیماری کا بہانہ بنا کر تاحال مقدمات سے مفرور ہیں۔

نواز شریف کے مقدمات پر گرجنے برسنے والے ہٹے کٹے نہال ہاشمی توہین عدالت کیس میں جیل گئے تو وہ بھی بیمار پڑگئے ان کے بارے میں کہا گیا کہ یہ دل کے عارضے میں مبتلا ہیں۔

پیپلز پارٹی کے رہنما شرجیل میمن بھی کرپشن کیس بھگت رہے ہیں انھیں جیل بھجوا گیا تو وہ بھی بیماری کا جواز بنا کر اسپتال جا پہنچے۔

پیپلز پارٹی کے ہی رہنما ڈاکٹر عاصم نےبھی اسیری کا بڑا حصہ جیل کے بجائے اسپتال میں کاٹا اور وہیں سے ہی ان کی رہائی عمل میں آئی۔

آصف زرداری بھی طویل عرصےقیدرہےان کی اسیری کے بیشتر دن بھی جیل کے بجائے اسپتالوں میں گزرے۔

تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ سیاسی رہنماؤں نےتوبہترین اداکاری کرکےبڑے بڑے اداکاروں کوبھی پیچھے چھوڑدیا ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں

 

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں