پاکستانی طالبہ نے 5G وائرلیس سسٹم کو بہتر بنانے پر اطالوی ایوارڈ جیت لیا -
The news is by your side.

Advertisement

پاکستانی طالبہ نے 5G وائرلیس سسٹم کو بہتر بنانے پر اطالوی ایوارڈ جیت لیا

اسلام آباد: پاکستان کی ایک پی ایچ ڈی طالبہ نے لانگ ٹرم ایولوشن (LTE) اور 5G وائرلیس سسٹم میں بہتری لانے پر اٹلی کا ایوارڈ جیت لیا۔

تفصیلات کے مطابق کنگ عبداللہ یونی ورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (KAUST) کی طالبہ قرۃ العین ندیم نے ٹیکنالوجی میں ایک ایسا کارنامہ انجام دیا ہے جس نے سب کو حیران کر دیا۔

قرۃ العین نے ایل ٹی ای اور فائیو جی وائرلیس سسٹم کو مزید بہتر بنا کر ٹرانسمیشن ٹیکنالوجی میں اپنے کارنامے کے لیے اٹلی کا مارکونی سوسائٹی پال بران ینگ اسکالر ایوارڈ جیت لیا ہے۔

ایوارڈ کی وصولی کے لیے قرۃ العین ندیم 2 اکتوبر کو اٹلی کے شہر بلونیا جائیں گی، جہاں وہ ایوارڈ کے ساتھ ساتھ 5000 امریکی ڈالر کی انعامی رقم بھی وصول کریں گی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستانی طالبہ کی فُل ڈائمنشن (FD)، میسیو ملٹی پل ان پٹ ملٹی پل آؤٹ پٹ (MIMO) میں کی گئی تحقیق موجودہ وائرلیس کمیونیکیشن سسٹمز سے کہیں زیادہ بہتر ہے جو لانگ ٹرم ایولوشن سسٹمز کے اوسط کو دگنے سے بھی زیادہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔


باہمت عظمیٰ ٹریننگ کے بعد مکینکل انجینئر بن گئیں، آٹو ورک شاپ میں کام کرتے دیکھ کر لوگ حیران


قرۃ العین کنگ عبداللہ یونی ورسٹی سے پی ایچ ڈی کر رہی ہیں، ان کی تحقیق تھری ڈی چینل ماڈلنگ اور انٹینا کی زیادہ گہرائی میں ترتیب کے نظری پہلوؤں پر مبنی ہے۔

اعزاز ملنے پر قرۃ العین نے کا کہنا تھا کہ اس ایوارڈ سے خطے میں سائنس کے شعبے میں کام کرنے والی خواتین کو ترغیب ملے گی کہ وہ مزید بڑے کارنامے انجام دیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں