The news is by your side.

Advertisement

افغانستان آنے والے پاکستانی ٹرکوں سے زائد کارگو چارجز کی وصولی

کابل: افغان حکام نے پاکستانیوں کے ساتھ امتیازی سلوک اختیار کرتے ہوئے چمن بارڈ سے قندھار آنے والے ٹرکوں سے ڈھائی ہزار کے بجائے 5 ہزار روپے کارگو چارجز کی وصولی شروع کردی جب کہ افغان ٹرکوں سے بدستور ڈھائی ہزار روپے لیے جارہے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق بلوچستان میں چمن بارڈر کے ذریعے قندھار جانے والے پاکستانی ٹرکوں سے افغان حکام کارگو چارجز کی مد میں 5 ہزار روپے فی ٹرک وصول کررہے ہیں جب کہ افغان ٹرک سے ڈھائی ہزار روپے وصول کیے جارہے ہیں۔

برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق پاک افغان جوائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نائب صدر جمال الدین اچکزئی نے بتایا کہ چارجز افغانستان کی مرکزی حکومت نے نہیں بلکہ قندھار کی مقامی انتظامیہ نے لاگو کیے ہیں، یہ چارجز چمن سے متصل افغانستان کے سرحدی علاقے اسپن بولدک میں وصول کیے جاتے ہیں۔

جمال اچکزئی کا کہنا تھا کہ افغانستان کے ٹرکوں سے ڈھائی ہزار افغانی کی شرح سے وصول کیے جاتے ہیں لیکن اس کے برعکس پاکستانی ٹرکوں سے فی ٹرک پانچ ہزار افغانی وصول کیے جارہے ہیں یہ عمل پاکستانی تاجروں کے ساتھ زیادتی اور امتیازی سلوک ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ افغان حکام سے پوچھا گیا تو ان کا موقف یہ تھا کہ افغانستان کے ٹرکوں پر دیگر ٹیکسز افغانستان میں وصول کیے جاتے ہیں اس لیے ان سے کارگو چارجز کی وصولی کی شرح کم رکھی گئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستانی تاجروں کا سامان پاکستانی ٹرک نہ صرف افغانستان لے جاتے ہیں بلکہ یہ افغانستان کے راستے وسطی ایشیائی ریاستوں تک جاتے ہیں،پاکستانی تاجروں کو بہت سارے مسائل درپیش ہیں جنہیں اسلام آباد اور کابل میں چیمبر کے ہونے والے اجلاسوں میں اٹھایا جاتا رہا ہے۔

جمال اچکزئی کے مطابق افغان حکام ان مسائل کو حل کرانے کی یقین دہانی بھی کراتے ہیں لیکن عملی طور پر اقدامات نہ ہونے کی وجہ سے پاکستانی تاجروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں