The news is by your side.

Advertisement

عورتوں کی “مرضی اور من مانیوں” کی جھلکیاں!

دنیا تیزی بدل رہی ہے۔ حیران کُن ایجادات اور تسخیرِ کائنات کے راستے میں‌ انسان کا ہر قدم اس کے فہم و تدبّر، علم، قابلیت اور کمال کی دلیل اور روشن مثال ہے۔

اسی فہم و تدبّر اور شعور نے انسان کو سکھایا کہ معاشروں میں‌ مرد کے “نصف” یعنی عورت کا کردار، گھروں اور سماج میں‌ بدلاؤ، ترقی اور خوش حالی کے سفر میں نہایت اہمیت رکھتا ہے جسے تسلیم کرتے ہوئے عورت کو بنیادی حقوق دینے کے ساتھ بااختیار بنانا ہو گا اور تب دنیا نے خواتین کا عالمی دن منانے کا فیصلہ کیا۔

اس دن کو منانے کا مقصد یہ ہے کہ ریاستیں عورت کے بنیادی حقوق کے ضامن ہوں، معاشرے عورتوں‌ کو انفرادی طور پر باختیار، آزاد اور زیادہ محفوظ بنائیں اور اسے عزت اور وقار دیں‌ جو کہ اس کا بنیادی حق ہے۔

پاکستان میں‌ بھی مختلف شعبہ ہائے حیات میں عورت پہلے کی نسبت زیادہ بااختیار، خود کفیل اور گھر سے سماج تک کسی حد تک فیصلہ کُن کردار کی حامل بھی ہے۔ عورتیں اپنے گھروں‌ میں بنیادی وظائف اور ذمہ داریوں‌ کو نبھانے کے ساتھ ساتھ معاشی میدان میں‌ مردوں کا ہاتھ بٹارہی ہیں اور ان کے اس کردار نے انفرادی اور اجتماعی ترقی کا راستہ ہموار کیا ہے۔

پاکستان میں‌ گزشتہ سال “عورت مارچ” کا انعقاد کیا گیا تھا جس کے چند بینروں اور نعروں نے تنازع اور گرما گرم مباحث کو جنم دیا۔ انہی میں ایک نعرہ ‘‘میرا جسم میری مرضی’’ بھی تھا۔ آج اسی دن کی مناسبت سے ہم آپ کے سامنے محمد عثمان جامعی کی چند کہانیاں‌ رکھ رہے ہیں‌ جن میں آپ ایک پاکستانی عورت کی “مرضی” اور “من مانی” کی جھلکیاں‌ دیکھ سکتے ہیں۔

یہ چند مختصر کہانیاں ہیں جو پاکستانی عورت کی ‘‘مرضی’’ اور ‘‘من مانی’’ کے جائز جذبے کی نہایت دل گداز اور حسین و جمیل تفہیم ہیں۔ یہ کہانیاں بتاتی ہیں کہ ایک عورت کی مرضی اور اختیار میں کیسے محبت کی چاشنی، آزادی کی مسرت شامل ہوسکتی ہے، وہ کس پیار بھرے زعم اور مان کے ساتھ، کس لطیف بھرم سے اپنا حق جتا سکتی ہے، من مانی کرسکتی ہے۔

دیکھیے کہ عورت مختلف روپ میں ایک مرد کو اپنے مہکتے ہوئے بھروسے، چہکتے ہوئے زعم اور دمکتے ہوئے غرور سے کیسے اپنی مرضی اور اشارے کا پابند کرتی ہے۔

آج مرد و زن سے متعلق ہر تنازع اور حقوق و فرائض کی ہر بحث سے دُور رہ کر ‘‘پاکستانی عورت’’ کا یہ اُجلا، خوش رنگ، حیا بار، بامقصد، تعمیری اور مثبت روپ دیکھیے۔

بیٹی کی من مانی

”بابا! آج سے آپ سگریٹ نہیں پییں گے“
بیٹی نے سگریٹ کا پیکٹ اٹھاکر کوڑے دان میں پھینک دیا۔
باپ ”ارے ارے، کیا کر رہی ہے لڑکی“ کہتا رہ گیا۔ ماتھے پر ہاتھ مارا اور مسکرادیا۔

بیوی کا اختیار

”بس بہت ہوگیا، اٹھیں اور جاکر بال کٹوائیں، کتنے بڑھ گئے ہیں، کلر ضرور لگوائیے گا ورنہ گھر میں نہیں گھسنے دوں گی“
بیوی نے کرکٹ میچ دیکھنے میں مگن شوہر کے ہاتھ سے ریموٹ چھین کر ایک طرف اچھال دیا۔
”ابے یار میچ ختم ہونے والا ہے پھر چلا جاﺅں گا“
”بس بہت ہوگئی، اتنے دن سے یہی سُن رہی ہوں“
شوہر کا احتجاج اور جھنجھلاہٹ کسی کام نہ آئی، اس کی چوڑی کلائی نازک انگلیوں کی گرفت میں آئی اور ہاتھ اس اعتماد سے کھینچا گیا کہ اسے اٹھنا ہی پڑا۔
”کلر لگواکر آئیے گا، ورنہ گھر میں نہیں گھسنے دوں گی“
شوہر کو بڑے مان سے اس گھر میں داخل نہ ہونے دینے کی دھمکی دی گئی جس کے کاغذات پر اسی کا نام تھا۔
دروازہ بند ہوتے ہی بیوی کے چہرے پر مسکراہٹ تھی ”شرافت کی زبان تو سمجھتے ہی نہیں“

ماں کی مرضی

”تو بیٹھ، میں بس آ رہا ہوں“
کال ختم ہوتے ہی نوجوان دروازے کی طرف لپکا۔
”کہاں چلے؟“
دہاڑ نے اس کے قدم روک لیے۔
”امی بس ابھی آیا“
جوان مردانہ آواز منمنائی۔
”کہیں جانے کی ضرورت نہیں، میں کھانا لگا رہی ہوں کھانا کھاﺅ۔“
جلالی لہجے میں حکم دیا گیا۔
”امی بس پانچ منٹ“
بھاری آواز کی منمناہٹ اور بڑھ گئی۔
”قدم گھر سے باہر نکال کر دیکھو، ٹانگیں توڑ دوں گی، روز باہر کے کھانے کھاکھا کر کیا حال بنالیا ہے اپنا۔“
چھے فٹ قد اور بیس سال کا بیٹا جاتنا تھا کہ ٹانگیں توڑنا تو کجا ماں چپت بھی نہیں لگائے گی، مگر بڑبڑاتا ہوا دبک کر وہیں بیٹھ گیا جہاں سے اٹھا تھا۔

بہن کی زور آوری

”امی میں میچ کھیلنے جا رہا ہوں“
وہ جاگرز پہن کر انگلی میں بائیک کی چابی گھماتا ہوا بولا۔
”رکیں بھائی مجھے نبیلہ کے گھر چھوڑدیں“
چھوٹی بہن جانے کہاں سے کودتی پھاندتی آئی اور بھائی کے سامنے کھڑی ہوگئی۔
”کیا پاگل ہوئی ہے، تیری دوست اُس طرف رہتی ہے مجھے ادھر جانا ہے“
بھائی نے ایک ہاتھ سے مشرق دوسرے سے مغرب کی سمت اشارہ کیا۔
”اب جا کے دکھائیں“
بہن نے پُھرتی سے بائیک کی چابی جھپٹ لی۔
”میچ شروع ہونے میں صرف دس منٹ رہ گئے ہیں، تیری دوست کے گھر صرف جانے میں پندرہ منٹ لگ جائیں گے، چابی دے شرافت سے“
بھائی غرایا۔
”کیا حرکت ہے دو اسے چابی“
ماں کی ڈانٹ تنازع نمٹانے آپہنچی۔
”ٹھیک ہے نہیں جاتی“
بہن نے چابی بھائی کے ہاتھ پر پٹخی اور منہ پھلا کر چل دی۔
”اچھا چل مصیبت چھوڑ دیتا ہوں“
بھائی کی مسکراتی آواز نے بہن کے قدم روک دیے، چہرہ کِھل اُٹھا اور وہ جھٹ جانے کی تیاری کرنے لگی۔

(ان مختصر کہانیوں‌ کے خالق سینئر صحافی، معروف ادیب اور شاعر محمد عثمان جامعی ہیں)

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں