پاکستانی نوجوانوں کے لیے برطانیہ کا اعلیٰ سول اعزاز
The news is by your side.

Advertisement

پاکستانی نوجوانوں کے لیے برطانیہ کا اعلیٰ سول اعزاز

ایونٹ میں متعدد طالب علموں نے حصہ لیا اور معاشرتی مسائل کے خاتمے کے حوالے سے آئیڈیاز پیش کیے

لندن: جشن آزادی کے موقع پر تین پاکستانی نوجوان طالب علموں نے برطانیہ کا اعلیٰ سول اعزاز اپنے نام کرکے 14 اگست کی خوشیوں کو دوبالا کردیا۔

تفصیلات کے مطابق لندن میں ’کوئین ینگ لیڈر‘ ایوارڈ کی تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں دنیا بھر سے 53 ممالک کے طلباء نے حصہ لیا اور انسانیت کے فروغ کے حوالے سے اپنے آئیڈیاز پیش کیے۔

انسانیت کو فروغ دینے کے لیے ایوارڈ تقریب کا انعقاد سن 2014 سے کیا جارہا ہے جس میں مختلف ممالک کے طالب علم معاشرتی مسائل سے لڑنے اور انہیں دور کرنے کے آسان طریقے پیش کرتے ہیں۔

ایونٹ میں جیتنے والے اشخاص کو ملکہ برطانیہ کی جانب سے نوجوان لیڈر کے اعلیٰ سول اعزاز سے نوازا جاتا ہے۔

رواں سال آگاہی اور شعور بیدار کرنے کے حوالے سے مختلف موضوعات رکھے گئے جس میں بالخصوص تعلیم کا فروغ، غریبوں کی مدد وغیرہ شامل تھے، مقابلے میں حصہ لینے والے نوجوان طالب علموں نے اپنے اپنے پروجیکٹ پیش کیے۔

پاکستان کے تین طالب علموں ہارون یاسین ، مجتبیٰ زیدی اور ماہ نور سید نے بھی مقابلے میں حصہ لیا اور تینوں فاتح قرار پائے، تینوں نوجوانوں کو ملکہ برطانیہ الزبتھ نے ایوارڈ دیا، برطانیہ میں تقریب اتفاق سے 14 اگست کے روز منعقد کی گئی۔

تینوں طالب علموں نے تقریب میں قومی لباس زیب تن کر کے شرکت کی اور ملکہ برطانیہ سے اپنا ایوارڈ حاصل کیا۔

ہارون یاسین

پاکستانی طالب علم ہارون یاسین ایک فلاحی تنظیم سے وابستہ ہیں جو غریب اور نادر بچوں میں جدید تعلیم فروغ دے رہی ہے، ان کے کام کو ججز نے بے حد پسند کیا اور انہیں ایوارڈ کے لیے منتخب کیا گیا۔

مجتبیٰ زیدی

پاکستانی نوجوان طالب علم مجتبیٰ زیدی  ایک فلاحی تنظیم سے وابستہ ہیں جو ملک بھر کے نادر اور غریب بچوں میں آرٹ کے فروغ اور اس کی مفت تعلیم کے حوالے سے اقدامات کررہی ہے، علاوہ ازیں یہ این جی او غریب بچوں کو پرائمری و سیکنڈری تعلیم حاصل کرنے کی طرف بھی راغب کرتے ہوئے مفت تعلیم کی کا بندوبست کرتی ہے۔

ماہ نور سید

سال 2018 کی کوئین لیڈر قرار دی جانے والی طلبہ ماہ نور سید بچوں کی جبری مشقت اور انہیں ذہنی و جسمانی طور پر تشدد کے خلاف سرگرم ہیں اور وہ اس حوالے سے لوگوں میں شعور بیدار کررہی ہیں۔

واضح رہے کہ یہ پروگرام سن 2014 میں شروع کیا گیا، جس کا مقصد زندگی کے مختلف شعبوں سے وابستہ باصلاحیت نوجوانوں کی تلاش ہے، اس پروگرام کے تحت ہزاروں ہونہار طالب علم اور نوجوان سامنے آئے جنہوں نے معاشرتی برائیوں کے خلاف نہ صرف  آواز بلند کی بلکہ ان کی روک تھام کے لیے اقدامات بھی کیے۔

اب تک کامن ویلتھ کے 53 ممالک کے  240 باصلاحیت نوجوان سامنے آچکے ہیں، یہ پروگرام اپنے چوتھے اور آخری سال میں ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں