The news is by your side.

Advertisement

پاکستان کا ناشتہ ہو یا چائے بھارت کو دونوں راس نہ آئے

کراچی: پاکستان کا ناشتہ ہو یا چائے بھارت کو دونوں راس نہ آئے، 6 ستمبر 1965 کو ناشتے کی قیمت پاکستان نے بھارت کو ٹینکوں کی دھمک سے دی اور 27 فروری 2019 کو چائے کی قیمت پڑوسی ملک بھارت کو مگ 21 سے ادا کرنا پڑی۔

واضح رہے 27 فروری 2019 کو پاکستان نے فضائی حدود کی خلاف ورزی پر بھارت کےدو طیارے مار گرائے تھے اور پائلٹ ابھی نندن کو گرفتار کر لیا تھا، بعد ازاں پاکستان نے جذبہ خیر سگالی کے تحت یکم مارچ کو گرفتار بھارتی ونگ کمانڈر کو رہا کر دیا، وزیر اعظم عمران خان نے بھارتی پائلٹ کو رہا کرنے کا اعلان کیا تھا۔

دوسری طرف پچاس سال قبل 6 ستمبر 1965 کو دشمن کی جارحیت کے جواب میں پوری قوم سیسہ پلائی دیوار بن گئی تھی، پاکستان کے ازلی دشمن بھارت نے رات کے اندھیرے میں لاہور کے تین اطراف سے حملہ کیا تھا، وطن کے دفاع کے لیے بری، بحری، اور فضائی افواج نے تن من دھن کی بازی لگائی۔

بھارت کی پندرہویں بکتر بند ڈویژن رات کی تاریکی میں پاکستان پر حملہ آور ہوئی تھی، طاقت کے نشے میں چور بھارتی فوج نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ صبح کا ناشتہ لاہور میں کریں گے، لیکن پاک فوج نے اپنے سے کہیں بڑی فوجی طاقت کا غرور خاک میں ملا دیا، اور بھارت چونڈہ کا مقام کبھی نہیں بھولے گا جسے پاک فوج کے جوانوں نے بھارتی ٹینکوں کا قبرستان بنا دیا۔

پاکستان نے ہر بار اپنے پڑوسی ملک پر ثابت کیا ہے کہ اس کی بہادر فوج دشمن سے قیمت وصول کرنا جانتی ہے۔

آج جی ایچ کیو راولپنڈی میں فوجی اعزازات کی تقسیم کی تقریب سے خطاب میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے دشمن کو دو ٹوک انداز میں وارننگ دی، کہا ہمیں اسلحے کے نئے انبار سے مرعوب کیا جا سکتا ہے نہ دھمکایا جا سکتا ہے۔

جنرل قمر جاوید باجوہ کہتے ہیں ان شاء اللہ دشمن کی کسی بھی حرکت کا فوری اور پوری قوت سے جواب دینے کے لیے ہم تیار ہیں، افواج پاکستان پوری قوت سے لیس، چوکنا اور باخبر ہیں۔

انھوں نے کہا ہندوستان نے ہمیشہ کی طرح غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کر رکھا ہے، مقبوضہ کشمیر میں یک طرفہ غیر قانونی اقدام سے خطے کے امن کو شدید خطرات لاحق ہو چکے ہیں، ہم کسی بھی یک طرفہ فیصلے کو تسلیم نہیں کرتے، مقبوضہ کشمیر کے معاملے پر کسی لچک کا مظاہرہ نہیں کریں گے۔

آرمی چیف نے کہا دشمن کسی شک میں نہ رہے، جنگ تھوپی گئی تو اینٹ کا جواب پتھر سے دیں گے، یہ ہم بالاکوٹ کے ناکام حملے پر اپنے جواب میں واضح کر چکے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں