بدھ, مئی 22, 2024
اشتہار

فلسطینیوں کے قتل عام پر امریکا کا گھناؤنا بیان سامنے آ گیا

اشتہار

حیرت انگیز

واشنگٹن: امریکا نے غزہ میں صہیونی فوج کے ہاتھوں فلسطینیوں کے قتل عام کو نسل کشی تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو میں امریکی قومی سلامتی کے مشیر جیک سلوان نے معصوم فلسطینوں کے قتل عام پر گھناؤنا بیان دیتے ہوئے کہا کہ غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے ہم اس کو فلسطینیوں کی نسل کشی نہیں مانتے۔

اے ایف پی کے مطابق جب غزہ میں جنگ بندی کی بات چیت رک گئی ہے اور اسرائیل نے جنوبی شہر رفح پر حملہ جاری رکھا ہوا ہے، ایسے میں وائٹ ہاؤس کے قومی سلامتی کے مشیر نے امن کی تمام تر ذمہ داری حماس پر ڈال دی ہے۔

- Advertisement -

جیک سلیوان نے بریفنگ میں کہا ’’ہم سمجھتے ہیں کہ اسرائیل تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے مزید کچھ کر سکتا ہے اور کرنا چاہیے، ہم نہیں مانتے کہ غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ نسل کشی ہے۔‘‘

یہودی آباد کاروں نے غزہ جانے والا امدادی سامان ضائع کردیا

انھوں نے کہا بائیڈن حماس کو شکست خوردہ ہوتے دیکھنا چاہتے ہیں، لیکن انھیں یہ بھی احساس ہوا کہ فلسطینی شہریوں کی زندگی جہنم ہو گئی ہے، وہ اس جنگ کے بیچ پھنس گئے ہیں۔ یہی بائیڈن انتظامیہ کا اس مسئلے پر مؤقف ہے۔

واضح رہے کہ اسرائیلی ٹینکوں، بلڈوزر اور بکتر بند گاڑیوں نے جبالیہ میں انخلا کے علاقوں اور پناہ گاہوں کو گھیر لیا ہے، اور اسرائیلی جیٹ طیاروں نے وسطی غزہ میں نصیرات پناہ گزین کیمپ پر بمباری کی جس کے نتیجے میں بچوں سمیت 14 فلسطینی شہید ہو گئے۔

7 اکتوبر سے غزہ پر اسرائیلی حملوں میں اب تک کم از کم 35,173 افراد شہید اور 79,061 زخمی ہو چکے ہیں۔

Comments

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں