The news is by your side.

Advertisement

غزہ پر اسرائیلی فورسز کا فضائی حملہ، 22 فلسطینی شہید

غزہ : غاصب صیہونی فوج کے مقبوہ غزہ پر فضائی حملے میں مزید 22 فلسطینی شہید ہوگئے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق غزہ میں حماس کے تحت وزارت صحت نے بتایا کہ غاصب صیہونی ریاست اسرائیل کی صیہونی افواج نے منگل اور بدھ کی درمیانی شب مزاحمتی گروپ جہادِ اسلامی کے ٹھکانوں کو فضائی حملوں کا نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں درجنوں افراد شہید جبکہ متعدد زخمی ہوچکے ہیں۔

فلسطینی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ اسرائیلی طیاروں کی بمباری میں اسلامی جہاد کے ملٹری ونگ القدس بریگیڈ کے 38 سالہ کمانڈر خالد فرج بھی شہید ہوئے ہیں۔

ادھر اسرائیلی شدت پسند وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے ایک بیان میں کہا کہ غزہ کی پٹی پر بمباری کا تازہ سلسلہ جاری ہے گا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ غزہ کی پٹی میں اسلامی جہاد کے جس کمانڈر کو قاتلانہ حملے میں مارا گیا ہے وہ اسرائیل پر نئے حملوں کی منصوبہ بندی کررہا تھا۔

غاصب ریاست کے وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ غزہ کی پٹی سے اسرائیل پر داغے جانے والے میزائلوں اور راکٹوں کے پیچھے ابو العطاء کا ہاتھ تھا اور اسی وجہ سے اسے ٹائم بم قرار دیا جاتا ہے۔

اسرائیلی فوج کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ غزہ کی سرحد پر ریزرو فوج کے دستے اور ٹینک پہنچا دیے گئے جب کہ سمندری حدود میں ماہی گیری پر بھی پابندی عاید کردی گئی ہے۔

درایں اثناء یورپی یونین نے اسرائیل سے غزہ کی پٹی پر مسلط کی گئی جارحیت فوری روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔

یورپی ممالک نے غزہ اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے اگر یہ جنگ طول پکڑ گئی تو اس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان کا اندیشہ ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ امور کی ترجمان فیڈریکا موگیرینی نے ایک بیان میں کہا کہ فلسطینی اوراسرائیلی شہریوں کی جانوں کے تحفظ کے لیے غزہ پر جارحیت کا خاتمہ ضروری ہے۔

خیال رہے کہ ایک روز قبل اسرائیلی فوجیوں نے فلسطین کی آزادی پسند اسلامی جہاد کے اہم کمانڈر بہا ابوالعطا کے گھر کو اس وقت فضائی حملے کا نشانہ بنایا تھا جب ہو اپنی اہلیہ اور بچوں کے ہمراہ اپنے گھر میں موجود تھے۔

اسلامی جہاد کے مطابق بہا ابوالعطا اور ان کی اہلیہ موقعے پر ہی شہید ہوگئے جبکہ چار بچے اور ایک ہمسایہ زخمی ہوئے تھے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں