site
stats
عالمی خبریں

آدھی زندگی اسرائیلی فوج کی قید میں گزارنے والے فلسطینی کا کارنامہ

غزہ: اسرائیلی فوج کی قیدمیں آدھی زندگی گزارنے والی فلسطینی نزار التمیمی نے اپنی ہمت ، لگن اور محنت سے نا ممکن کو ممکن کردکھایا اور رہائی کے بعد جامعہ اردن سے گریجویشن کی ڈگری امتیازی نمبروں سے حاصل کرلی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اپنی زندگی کے 20 سال اسرائیلی فوج کی قید میں گزارنے والی فلسطینی نوجوان نزار التمیمی نے آدھی زندگی جیل میں گزاری تاہم ایک معاہدے کی صورت میں اُسے رہا کیا گیا۔ نوجوان نے جیل سے رہائی کے بعد بقیہ زندگی اور اپنے خوابوں کو حقیقت کا روپ دینے کا سفر شروع کیا جنہیں اسرائیلی فوج نے روک دیا تھا۔

عرب میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نوجوان نے کہا کہ ’’قید کے دوران اس حقیقت کو جان لیا تھا کہ اگر جیل کی زندگی سے فائدہ نہ اٹھایا تو آئندہ کی تمام عمر برباد ہوجائے گی، لہذا میں نے روزش، کھیل کود، مطالعے اور اچھے سماجی تعلقات پر بھرپور توجہ دی‘‘۔

نزار کا کہنا ہے کہ قید کے دوران مطالعہ کرنے سے بہت فائدہ حاصل ہوا کیونکہ یہ عقل کی غذا اور انسان کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرتا ہے،کتاب سے دوستی ہونے کے بعد مجھے کبھی تنہائی کا احساس نہیں ہوا بلکہ اس نے میری ہر مقام پر مدد کی اور معلومات بھی فراہم کیں۔

فلسطینی نوجوان کے مطابق دوران قید مطالعے کی مشق پابندی سے کرتا ہے، اس دوران کو کتابوں کو 6 سے 8 گھنٹے دیتا یہی وجہ ہے کہ اکثر کتابیں 6 ماہ کے مختصر عرصے میں 35 سے زائد کتابیں پڑھ لیتا تھا، یہ کتابیں مختلف موضوعات سیاست، ادب، فلسفہ، مذہب، تاریخ سمیت دیگر موضوعات کی ہوتی تھیں۔

israil-1

نراد کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوجیوں نے کئی بار کتابوں جیل میں لانے پر پابندی عائد کی تاہم فلسطینی قیدیوں نے اسرائیلی حکام کو مجبور کیا کہ وہ کتابوں کو نہ روکیں، تمام قیدیوں میں مطالعے کے شوق ہونے کے سبب جیل کے ہر قید خانے میں ایک کتب خانہ قائم ہوگیا ہے جہاں مختلف موضوعات پر مبنی سینکڑوں کتابیں موجود ہیں۔

فلسطینی نوجوان کا کہنا ہے کہ دوران قید اُس کے سامنے والدہ کو قتل کیا گیا کیونکہ وہ بیٹے کے خلاف عدالتی کارروائی میں پیش ہوئی، اس دوران اسرائیلی فوجیوں نے اُس پر حملہ کر کے تشدد کا نشانہ بنایا اور وہ جاں بحق ہوگئی، ماں کی جدائی کا صدمے نے نزار پر گہرا اثر چھوڑا تاہم اُس نے والدہ سے کیے وعدوں کو پورا کرنے کے لیے نئی عہد کے ساتھ زندگی گزارنے کا فیصلہ کیا۔

فلسطینی نوجوان نے رہائی کے بعد اردن کا رخ کیا اور تعلیم مکمل کرنے کے لیے یونیورسٹی میں داخلہ لیا اور دوران قید کیے گئے مطالعے کی بدولت پولیٹیکل سائنس میں امتیازی نمبروں سے گریجویشن کی ڈگری حاصل کی۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top