The news is by your side.

Advertisement

پاناما کیس کی سماعت 29 نومبر تک ملتوی

اسلام آباد: سپریم کورٹ کے لارجر بنچ نے پاناما کیس کی سماعت 29 نومبر تک ملتوی کردی۔ سماعت میں تحریک انصاف کے وکیل حامد خان نے وزیر اعظم کا خطاب پڑھ کر سنایا۔ عدالت نے حکومت کی جانب سے جمع شدہ کاغذات کے خلاف ثبوت لانے کی ہدایت کی۔

تفصیلات کے مطابق آج سپریم کورٹ میں پاناما لیکس کیس کی سماعت چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں 5 رکنی بنچ نے کی۔

سماعت میں تحریک انصاف کے وکیل حامد خان نے وزیر اعظم کا خطاب پڑھ کر سنایا۔ انہوں نے دلائل کہتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نواز شریف نے پاناما لیکس کے معاملے پر 3 بار خطاب کیا، عدالت ان تقاریر کا جائزہ لے۔

تاہم عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ حکومت نے اپنے دفاع میں جو دستاویزات پیش کیے ہیں تحریک انصاف ان کا جائزہ لے، اور ان کے خلاف اگر کوئی ثبوت ہے تو پیش کرے۔

حامد خان نے دلائل میں کہا کہ دبئی پراپرٹی کی فروخت اور جدہ فیکٹری کی خریداری میں 21 سال کا گیپ ہے۔ یہ نہیں بتایا گیا کہ دبئی کی پراپرٹی کیسے خریدی اور کس طرح پیسہ دبئی منتقل ہوا۔

حامد خان استفسار کیا کہ صنعتوں کو قومیانے کے بعد رقم کہاں سے آئی کہ شریف فیملی کی صنعتی ریاست زندہ ہوگئی۔ دستاویز میں جون 2005 میں اسٹیل مل بیچنے کی تاریخ تو ہے لیکن خریدنے کی نہیں۔ وزیر اعظم نے بیٹوں کے کاروبار کی تفصیل بھی نہیں دی۔

جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیے کہ کیا وزیر اعظم کے بیانات پر ہم حتمی نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں۔ جسٹس کھوسہ کا کہنا تھا کہ کسی شخص کی پوری زندگی کی اسکروٹنی نہیں کر سکتے۔

جسٹس عظمت کا کہنا تھا کہ دونوں فریق کہتے ہیں کہ لندن فلیٹس آف شور کمپنیوں کے تحت خریدے گئے۔ دوسری طرف سے کھلم کھلامؤقف آیا کہ فلیٹس حسین نواز کے ہیں۔ اگر وزیر اعظم کے بچوں کا مؤقف ثابت ہوجاتا ہے تو آپ کا دعویٰ فارغ ہوجائے گا۔

جسٹس آصف سعید نے ریمارکس دیے کہ نواز شریف نے کہا کہ پاناما لیکس کی بنیاد پر جو الزامات لگائے وہ 22 سال پرانے ہیں۔ کیا معاملے کی تحقیقات ہوئیں؟ اگر تحقیقات سامنے آجائیں تو معاملہ حل ہوجائے۔

حامد خان نے کہا کہ نواز شریف نے تقریر میں کہا کہ ایک الزام بھی ثابت ہوا تو خود کو احتساب کے لیے پیش کردیں گے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ان کی سمجھ نہیں آتا کہ معاملے کی تحقیقات کیسے کریں گے۔ جب فلیٹس خریدے گئے تو ان کی مالیت کیا تھی۔ جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ جو دستاویزات جمع کروائی گئیں ان سے فلیٹس کی قیمتوں کا اندازہ نہیں ہوتا۔

دوسری جانب وزیر اعظم کے وکیل سلمان بٹ نے عدالت سے تحریک انصاف کی شہادتیں مسترد کرنے کی استدعا کی۔

تحریک انصاف کی قانونی دستاویزات چیلنج

اس سے قبل وزیر اعظم کے صاحبزادوں حسین نواز اور حسن نواز نے عمران خان کی جمع شدہ دستاویزات کی قانونی حیثیت کو بھی چیلنج کیا تھا۔

اس ضمن میں مریم، حسن اور حسین نواز کے وکیل ایم اکرم شیخ نے تحریک انصاف کی جانب سے جمع کروائے جانے والے ثبوتوں پر اعتراضات سپریم کورٹ میں جمع کروائے تھے۔

ایم اکرم شیخ نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ تحریک انصاف کی جانب سے حسین نواز کے نام پر لندن کے فلیٹس کی ملکیت کی بنیاد پر وزیر اعظم کو نا اہل قرار دیے جانے کی استدعا بے بنیاد ہے۔

درخواست میں کہا گیا تھا کہ تحریک انصاف نے اخباری تراشوں پر مبنی جو دستاویزات جمع کروائی ہیں ان کا تحریک انصاف کی جانب سے عائد کیے گئے بنیادی الزام سے کوئی تعلق نہیں۔ تحریک انصاف نے ان دستاویزات پر انحصار کرنے پر اصرار کیا تو وہ ان دستاویزات کا فرداً فرداً جواب دینے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔

ایم اکرم شیخ نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ دستاویزی شہادتیں غیر متعلقہ ہونے کی بنا پر مسترد کر کے تحریک انصاف کی درخواست خارج کی جائے۔

تاہم چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اپنی توجہ مرکزی مقدمے پر مرکوز کی ہے۔ مرکزی درخواست حکومت وقت کے خلاف ہے۔ اسی طرح درخواستیں آتی رہیں تو مقدمے کا فیصلہ نہیں ہو پائے گا۔

سماعت کے بعد

سماعت کے بعد وفاقی وزیر ریلوے سعد رفیق نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج عدالت میں تحریک انصاف کے وکیل حامد خان نے عمران خان سے زیادہ ن لیگ کے مقدمے کو بہترین انداز میں پیش کیا۔

سعد رفیق نے کہا کہ عدالت نے انہیں بار بار تنبیہہ کی کہ سیاست سے پرہیز کریں اور کیس کے متعلق بات کریں۔ عدالت نے انہیں کہا کہ حکومت نے جو کاغذات جمع کروائے ہیں ان کا اچھی طرح مطالعہ کریں۔

بعد ازاں مسلم لیگ ن کے رہنما دانیال عزیز نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ عدالت نے واضح طور پر تحریک انصاف کے وکیل کو کہا ہے کہ حکومت نے اپنے دفاع میں جو کاغذات پیش کیے ہیں ان کا مطالعہ کریں، اور ان کے خلاف کوئی ثبوت لائیں۔ آپ عدالت کا وقت ضائع کر رہے ہیں۔

اس موقع پر عوامی مسلم لیگ کے رہنما شیخ رشید نے کہا کہ ثبوت بھی بہت جلد پیش کردیں گے۔ ہمیں امید ہے کہ انصاف یہیں سے لے گا۔

عدالت نے کیس کی مزید سماعت 29 نومبر تک ملتوی کردی۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں