panama case sharif family document spelling mistakes
The news is by your side.

Advertisement

شریف خاندان کی دستاویزات میں پہلے فونٹ اور اب اسپیلنگ کی غلطیاں سامنے آگئیں

اسلام آباد : شریف خاندان خود کو بے قصور ثابت کرنے کے لئے جو ثبوت جمع کروارہا ہے ، وہی ان کے خلاف جارہے ہیں، پہلےفونٹ نے جعلسازی کا پول کھولا اور اب دستاویزات میں اسپیلنگ کی غلطیوں نے شواہد کو مشکوک بنادیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق شریف فیملی نےپاناما کیس جو ثبوت جمع کرائے وہی گلےپڑگئے، ابھی کیلبری فونٹ کا معاملہ ٹھنڈا نہ ہوا تھا کہ دستاویزمیں کچھ اور غلطیاں سامنے آگئیں، شریف خاندان کے نوٹری پبلک کےدونوں سرٹیفکیٹ میں نوٹری کی اسپیلنگ ہی ٖغلط تھی، نوٹری کی غلط اسپیلنگ کو صحیح ثابت کرنے کے لئے وکی پیڈیا پرنوٹری کے پیچ پراسپیلنگ کو اپ ڈیٹ کرنے کی کوشش کی گئی۔

صرف یہی نہیں کچھ دن پہلے جمع ہونے والی دستاویزات میں بھی اسپیلنگ مسٹیکز سامنے آئیں، مبارک ، نہیان اور بن کی اسپیلنگ غلط تھیں۔

شریف خاندان کی اسپیلنگ کی غلطیاں صرف یہیں تک نہیں، سپریم کورٹ کو کاروبارکے لئے جس ویب سائیٹ کا حوالہ دیا گیا وہاں بھی اکاؤنٹنٹس کی اسپیلنگ غلط ہے اور تواور یہ ویب سائیٹ صرف یہیں تک محدود ہے، جے پی سی اے لمیٹڈ پر کون سا کاروبار ہوتا ہے ، کس کام کی ویب سائیٹ ہے، ان تفصیلات کے لئے صرف یہی پیج سامنے آتا ہے۔

دوسری جانب سپریم کورٹ میں پاناما کیس کی سماعت میں کیلبری فونٹ کی دستاویزات شریف فیملی کے گلے پڑگئیں، سپریم کورٹ نے اپنے ریمارکس میں کہا ہم تو یہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے آپ لوگوں نے یہ کیا کر دیا،چھٹی کے دن تو برطانیہ میں کوئی فون بھی نہیں اٹھاتا، ٹرسٹ ڈیڈکی تصدیق ہفتے کو کرائی گئی، بادی النظرمیں ہمارے سامنے کیس جعلی دستاویزات کا ہے۔

جسٹس شیخ عظمت نے کہا کہ ٹرسٹ ڈیڈ کے وقت کیلبری فونٹ کا استعمال نہیں ہوسکتا تھا، ہر جگہ ایک جیسےایک سائزکے دستخط کیسے ہوسکتے ہیں؟ دستخط میں ایک جیسی غلطی دونوں دستاویزات پر کیسے ہوسکتی ہے؟

وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ممکن ہے کوئی غلطی ہوگئی ہو، یہ دستاویزات اکرم شیخ نے جمع کرائی تھی، معلوم کروں گا یہ کیسے ہوا ہے۔

دوران سماعت جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ دستاویزات تیار اور ٹیسٹ کسی اور دن ہوئے، اپنی آنکھیں بند کیسے کرسکتے ہیں، نتائج اچھے نہیں ہونگے، قانون اپناراستہ خود بنائے گا۔

سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل رانا وقار کو روسٹرم پر طلب کیا، عدالت نے استفسار کیا کہ بتائیں غلط دستاویزات دی جائیں تو کیا ہوتا ہے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہا غلط دستاویزات پرمقدمہ درج ہوتا ہے، اس جرم کی سزا سات سال قید ہوسکتی ہے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں