پاناما کیس کی تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی بنانے کا حکم -
The news is by your side.

Advertisement

پاناما کیس کی تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی بنانے کا حکم

اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے پاناما لیکس کے تاریخی مقدمے کا فیصلہ سنا دیا، عدالت نے کیس کی مزید تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی تشکیل دینے کا حکم دیا ہے، وزیراعظم اور ان کے بچے ٹیم کے سامنے پیش ہوکر سوالات کے جوابات دیں گے۔

فیصلہ سنائے جانے کے موقع پر ن لیگ، پی ٹی آئی، جماعت اسلامی، عوامی مسلم لیگ کی قیادت موجود تھی۔

پاناما کیس کا یہ تاریخ ساز فیصلہ  547  صفحات پر مشتمل ہے‘ فیصلے کا تناسب 3:2 ہے یعنی تین ججز ایک جانب جبکہ دو ججز دوسری جانب ہیں۔

 جسٹس آصف سعید کھوسہ اورجسٹس اعجاز افضل الگ رائے رکھتے ہیں جبکہ جسٹس اعجازالاحسن‘  جسٹس عظمت سعید شیخ اورجسٹس گلزاردوسری جانب ہیں۔ عدالت نے یہ اس کیس پر جوائنٹ انویسٹی گیشن کمیشن بنانے کا حکم دے دیا۔


پاناما کیس کا فیصلہ


عدالت عظمیٰ کے لارجر بنچ میں سے دوججز جسٹس آصف سعید کھوسہ اورجسٹس اعجاز افضل نے وزیراعظم کو صادق اور امین کی صف سے باہر کرتے ہوئے انہیں نااہل قرار دیا تاہم جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس عظمت سعید شیخ اورجسٹس گلزار نے وزیراعظم اور ان کے بچوں کے خلاف جے آئی ٹی کے تحت تحقیقات کا حکم دیا۔

عدالتِ عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں رقم قطر جانے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم تشکیل دینے کا حکم دیا ہے‘ جے آئی ٹی میں نیب ‘ آئی ایس آئی ‘ ایم آئی ‘ ایف آئی اے اور سیکیورٹی ایکسچینج کے نمائندے شامل ہوں گے۔


سپریم کورٹ نے قطری خط کو بطور ثبوت مسترد کردیا اور لندن اپارٹمنٹس خریدنے میں منی ٹریل کی تحقیقات کا بھی حکم دیا ہے۔

حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم نواز شریف اور ان کے فرزند حسن اور حسین نواز جے آئی ٹی کے روبرو پیش ہوں گے۔

عدالت نے یہ بھی کہا ہے کہ جے آئی ٹی ہر دو ہفتے بعد بنچ کو رپورٹ پیش کرے گی اور 60 دن کے اندر مکمل تحقیقات عدالت کے سامنے پیش کی جائے گی۔

فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ چیئرمین نیب اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔



گاڈ فادر ناول کا تذکرہ


سپریم کورٹ کی جانب سے جاری کردہ فیصلے میں 1969 میں شائع ہونے والے ناول ’گاڈ فادر‘کا بھی تذکرہ کیا گیا ہے۔ یہ ناول ایک اطالوی مافیا باس کی زندگی پر مبنی ہے جس کے پاس اس قدرغیرقانونی دولت تھی کہ اس کے کرنسی نوٹس باندھنے کے لیے ہرماہ ڈھائی ہزارڈالر کی ربربینڈ آتی تھی۔

اس کی موت کے بعد جب اس کی غیر قانونی دولت کا تخمینہ لگایا گیا تواداروں کے حساب سے اس کی ہفتہ وار کمائی 400 ملین ڈالر سے زیادہ تھی تاہم اسکے بیٹے نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ادارے اس رقم کے ایک فیصد کا بھی اندازہ نہیں لگاسکے جو پابلو اسکوبار کوکین کی اسمگلنگ سے کماتا تھا۔

عدالت کے فیصلے میں ناول سے اقتباس لیا گیا ہے کہ’ہرعظیم خزانے کے پیچھے کوئی جرم ہوتا ہے‘‘۔

سیکیورٹی کے سخت ترین انتظامات


پاناما کیس کا فیصلہ سنائے جانے کے موقع پر سپریم کورٹ آف پاکستان سمیت اسلام آباد اور پنجاب میں سیکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کیے گئے ہیں۔

سپریم کورٹ میں محض مخصوص پاسز کے حامل افراد کو داخلے اجازت ہے جبکہ وزارتِ داخلہ کی ہدایت پر آئی جی اسلام آباد نے عدالتِ عظمیٰ کی حفاظت کے سخت ترین اقدامات کیے ہیں‘ اس کام میں انہیں رینجرز کی معاونت بھی حاصل ہے۔

اس کیس کے فیصلے کے بعد کسی بھی ممکنہ رد عمل کے نتیجے میں پنجاب بھر میں سیکیورٹی انتہائی سخت کردی گئی ہے، پنجاب رینجرز کو پولیس کی معاونت کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ اس کیس کا فریق جماعتوں سمیت عوام کو بھی بہت بے چینی سے انتظار ہے اور اس بے چینی میں اضافہ اس وقت ہوا جب سپریم کورٹ نے بیان دیا کہ اس کیس میں ایسا فیصلہ دیں گے کہ صدیوں یاد رکھا جائے گا۔

پاناما کیس کا پسِ منظر


پانامہ لیکس کے تہلکہ خیز انکشافات کو ایک سال اور کچھ دن کا عرصہ گزر چکا ہے،4 اپریل 2016ء کو پانامہ لیکس میں دنیا کے 12 سربراہان مملکت کے ساتھ ساتھ 143 سیاست دانوں اور نامور شخصیات کا نام سامنے آئے جنہوں نے ٹیکسوں سے بچنے اور کالے دھن کو بیرونِ ملک قائم بے نام کمپنیوں میں منتقل کیا۔

انکشافات میں پاکستانی سیاست دانوں کی بھی بیرونی ملک آف شور کمپنیوں اور فلیٹس کا انکشاف ہوا تھا جن میں وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف کا خاندان بھی شامل ہے۔

وزیر اعظم میاں نواز شریف کے بیٹوں حسین نواز اور حسن نواز کے علاوہ بیٹی مریم صفدرکا نام بھی پاناما لیکس کے متاثرین شامل تھا۔

قوم سے خطاب اور قومی اسمبلی میں وزیر اعظم نے اپنی جائیدادوں کی وضاحت پیش کی تاہم معاملہ ختم نہ ہوا اور پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان، جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق اور عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کی جانب سے وزیراعظم کو نااہل قرار دینے کے لیے علیحدہ علیحدہ تین درخواستیں دائر کی گئیں جنہیں سماعت کے لیے منظور کرلیا گیا۔

کیس کی سماعت کے لیے چیف جسٹس کی سربراہی میں بینچ تشکیل دیا گیا تاہم سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی ریٹائرمنٹ کی وجہ سے بینچ ختم ہوگیا اور چیف جسٹس نے تمام سماعتوں کی کارروائی بند کرتے ہوئے نئے چیف جسٹس کے لیے مقدمہ چھوڑ دیا۔

نئے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ بنے جنہوں نے کیس کی از سر نو سماعت کی اور 23 فروری کو فیصلہ محفوظ کرلیا جو کہ آج 20 اپریل کو 57 روز بعد سنایا جارہا ہے


اگرآپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اوراگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں