The news is by your side.

Advertisement

پاناما لیکس: سپریم کورٹ کاتمام فریقین کو15نومبرتک دستاویزات جمع کرنے کا حکم

اسلام آباد: پانامالیکس سے متعلق کیس میں عدالت نے تمام فریقین کو 15نومبر تک متعلقہ دستاویزات جمع کرانے کا حکم دے دیا۔

تفصیلات کےمطابق سپریم کورٹ آف پاکستان میں پانامالیکس سے متعلق کیس کی سماعت چیف جسٹس آف پاکستان انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ نے کی۔

عدالت عظمیٰ میں وزیراعظم نوازشریف کے بچوں کی جانب سے جواب ان کے وکیل سلمان اسلم بٹ نے عدالت عظمیٰ میں پڑھ کر سنائے۔

پانامالیکس کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا کہ کسی کے ساتھ امتیاز نہیں ہوگا،پاناماکی لپیٹ میں سب آئیں گے۔

چیف جسٹس کا کہناتھا کہ بدعنوانی کرنے والے سب اس کیس کی گرفت میں آئیں گے اور عدالت کے اقدامات قانونی دائرے میں ہونگے۔

سپریم کورٹ میں سماعت کےدوران وزیراعظم کے بچوں کے وکیل سلمان اسلم بٹ کا کہناتھا کہ مریم صفدر وزیراعظم کے زیرکفالت نہیں اور وزیراعظم کے دونوں بیٹے خودمختار ہیں۔

چیف جسٹس آف پاکستان نے سماعت کے دوران ریماکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم بادشاہ نہیں جو قانون سے ہٹ کر جو جی چاہے کریں۔

چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کا کہناتھا کہ عدالت کے لیے بہت آسان تھا کہ معاملہ نیب کے سپرد کردیتےلیکن ایسا نہیں کیا،جو بھی فیصلہ ہوگا،قانون کے مطابق ہی ہوگا۔

پاناما لیکس کیس کی سماعت کے دوران جسٹس آصف کھوسہ نے استفسار کیا کہ کیا مریم نواز وزیراعظم کے زیر کفالت ہیں؟جس پر وکیل کا کہنا تھا کہ مریم نواز اپنے والد کے زیر کفالت نہیں اور2009 سے اپنے ٹیکس باقاعدگی سے ادا کررہی ہیں اس سے قبل وہ بیرون ملک مقیم تھیں۔

شریف فیملی کے وکیل سلمان اسلم بٹ کا کہناتھاکہ مریم نواز نے آف شور کمپنیوں سے بھی فائدہ نہیں اٹھایا،وہ صرف ٹرسٹی ہیں اور لندن کی جائیداد سے بھی ان کا کوئی تعلق نہیں،لندن جائیدا د خریدنے کے لیے رقم بھی پاکستان سے نہیں بھجوائی گئی۔

عدالت عظمیٰ نے استفسار کیا کہ کیا جائیداد کی ملکیت کی دستاویزات مالکان کے پاس ہیں؟ابھی تک عدالت میں جمع کیوں نہیں کرائی گئیں؟۔

جسٹس عظمت سعید نے سوال کیا کہ یہ جائیداد کب خریدی گئی،کیا عدالت سے کچھ چھپایا جارہا ہے؟ ۔جس پر شریف فیملی کے وکیل نےجواب دیا کہ ایسا کچھ بھی نہیں،حسن نواز اور حسین نواز کئی سال سے ملک سے باہر ہیں اور اپنا کاروبار کررہے ہیں،وزیراعظم نواز شریف کا بھی اس کاروبار سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

جسٹس آصف کھوسہ نے ریمارکس دیے کہ جب تک عدالت کو مطمئن نہیں کیا جاتا،کلین چٹ نہیں دیں گے،حسین نواز عدالت میں آئیں اور مطمئن کریں۔انہوں نے کہا کہ کیس بہت سادہ ہے لیکن مطمئن نہ کیا گیا تو کسی اور ہی طرف جائے گا۔

سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے شیخ رشید کا کہنا تھا کہ اس وقت 20 کروڑ عوام کی نظریں سپریم کورٹ پر لگی ہیں، سپریم کورٹ سے پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین فیصلہ آئے گا۔

اس سے قبل سپریم کورٹ کے باہرمیڈیا سےگفتگوکرتےہوئے وفاقی وزیرا طلاعات مریم اورنگزیب کاکہناتھا کہ عمران خان کو سمجھ جانا چاہیے کہ کنٹینر اور عدالت میں فرق ہوتا کیونکہ عدالت میں الزامات کی بنیاد پر کیس نہیں جیتے جاتے۔ان کا کہناتھاکہ”عمران خان پاناما لیکس کیس کی تحقیقات سے فرار چاہتے ہیں “۔

قبل ازیں تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین کا کہنا تھااگر پاناما لیکس کے حوالے سے تمام فریقین سچ بولیں تو معاملہ 20 روز میں حل ہو جائے۔

یاد رہے کہ گزشتہ سماعت پر عدالت نے شریف خاندان کی جانب سے جواب داخل نہ کروانے پر اظہار برہمی کرتے ہوئے تینوں افراد کو 7 نومبر تک کی مہلت دی تھی جبکہ وزیر اعظم کے داماد کیپٹن صفدر نے گزشتہ سماعت پر عدالت میں جواب داخل کروادیا تھا۔

مزید پڑھیں:سپریم کورٹ: پاناما لیکس کی کاروائی روکنے کی درخواست دائر

 کیپٹن صفدر نے جواب میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ اُن کی اہلیہ مریم نواز کی کوئی آف شور کمپنی نہیں اور وہ باقاعدگی سے ٹیکس ادا کرتی ہیں جبکہ مریم نواز نے ٹیکس ریٹرن میں اپنے تمام اثاثے ظاہر کیے ہیں۔

واضح رہے کہ پانامالیکس سے متعلق کیس میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے تمام فریقین کو 15نومبر تک دستاویزات جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں