The news is by your side.

Advertisement

پاناما کیس: وزیراعظم نوازشریف نا اہل قرار

اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان کے پانچ رکنی بنچ نے پاناما لیکس کے تاریخ ساز مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف کو نا اہل قرار دے دیا ہے‘ فیصلہ جسٹس اعجاز افضل نے پڑھ کرسنایا۔

تفصیلات کے مطابق لارجر بنچ  نے جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں وزیراعظم اوران کے خاندان کے خلاف دائر کردہ مقدمے کا فیصلہ کمرۂ عدالت نمبر1 میں سنایا ‘ فیصلے میں متفقہ طور پروزیراعظم نواز شریف کو نااہل قراردے دیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ جسٹس آصف سعید کھوسہ اورجسٹس اعجاز افضل پہلے ہی وزیراعظم کو صادق اور امین کی صف سے باہر کرتے ہوئے نا اہل قرار دے چکے تھے۔

جسٹس اعجاز افضل نے فیصلہ سناتے ہوئےکہا کہ ہے دوججز نے 20 اپریل کو نواز شریف کو نااہل قراردے دیا تھا‘ حکم نامے میں وزیراعظم نواز شریف‘ کیپٹن صفدر اوراسحاق ڈار کو بھی نااہل قراردیا گیا ہے۔

اے آروائی نیوز اسلام آباد کے بیورو چیف صابر شاکر کے مطابق عدالت نے نیب کو حکم دیا ہے کہ چھ ہفتوں کے اندروزیراعظم‘ کیپٹن صفدر‘ اسحاق ڈار اور مریم صفدرکے خلاف ریفرنس دائر کیا جائےاور احتساب عدالت چھ ماہ میں فیصلہ کرے۔

عدالت نے  الیکشن کمیشن کو نا اہلی کا نوٹیفیکیشن جاری کرنے کا حکم دیا اور صدرِ پاکستان ممنون حسینکو کہا ہے کہ وہ آئین کے تحت جمہوری عمل کو آگے بڑھائیں۔

 بنچ میں جسٹس آصف سعیدکھوسہ‘ جسٹس گلزاراحمد‘ جسٹس اعجازالاحسن‘ جسٹس اعجازافضل اور جسٹس شیخ عظمت سعید شامل ہیں۔

سپریم کورٹ بنچ نے جے آئی ٹی کی رپورٹ پر سماعت مکمل کرتے ہوئے گزشتہ جمعے یعنی 21 جولائی کو پاناما کیس کی سماعت مکمل کرکے فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔

پاناما کیس کا پسِ منظر


پانامہ لیکس کے تہلکہ خیز انکشافات کو ایک سال اور کچھ دن کا عرصہ گزر چکا ہے،4 اپریل 2016ء کو پانامہ لیکس میں دنیا کے 12 سربراہان مملکت کے ساتھ ساتھ 143 سیاست دانوں اور نامور شخصیات کا نام سامنے آئے جنہوں نے ٹیکسوں سے بچنے اور کالے دھن کو بیرونِ ملک قائم بے نام کمپنیوں میں منتقل کیا۔

انکشافات میں پاکستانی سیاست دانوں کی بھی بیرونی ملک آف شور کمپنیوں اور فلیٹس کا انکشاف ہوا تھا جن میں وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف کا خاندان بھی شامل ہے۔

وزیر اعظم میاں نواز شریف کے بیٹوں حسین نواز اور حسن نواز کے علاوہ بیٹی مریم صفدرکا نام بھی پاناما لیکس کے متاثرین شامل تھا۔

وزیراعظم کا قوم سے خطاب


قوم سے خطاب اور قومی اسمبلی میں وزیر اعظم نے اپنی جائیدادوں کی وضاحت پیش کی تاہم معاملہ ختم نہ ہوا اور پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان، جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق اور عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کی جانب سے وزیراعظم کو نااہل قرار دینے کے لیے علیحدہ علیحدہ تین درخواستیں دائر کی گئیں جنہیں سماعت کے لیے منظور کرلیا گیا۔

کیس کی سماعت کے لیے چیف جسٹس کی سربراہی میں بینچ تشکیل دیا گیا تاہم سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی ریٹائرمنٹ کی وجہ سے بینچ ختم ہوگیا اور چیف جسٹس نے تمام سماعتوں کی کارروائی بند کرتے ہوئے نئے چیف جسٹس کے لیے مقدمہ چھوڑ دیا۔

نئے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ بنے جنہوں نے کیس کی از سر نو سماعت کی اور رواں سال 20 اپریل کو جے آئی ٹی کی تشکیل کا حکم دیا جس نے ساٹھ روز میں اپنی تحقیقات مکمل کرکے اپنی رپورٹ جمع کرائی جس کی بنیاد پر آج پاناما کے تاریخ ساز کیس کا فیصلہ سنایا ہے۔


اگرآپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اوراگرآپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پرشیئرکریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں