The news is by your side.

Advertisement

پنچایت کےحکم پر 2 کمسن یتیم بچیوں کی شادی، پولیس کا ایکشن

علی پور: پنجاب کے ضلع مظفرگڑھ میں افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے، جہاں بھائی کے مبینہ گناہوں کی سزا دو کمسن بہنوں کو دی گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق ضلع مظفرگڑھ کے علاقے علی پور میں پنچایت کےحکم پر دو کمسن یتیم بچیوں کی شادی کرادی گئی ہے، پنجایت نے یہ ظالمانہ فیصلہ بچیوں کے بھائی کے لڑکی سےتعلقات کےشبہ پر کیا، یہی نہیں فیصلے پر عملدرآمد کرانے کے لئے پنچایت کے سربراہ نے دس مسلح افراد کےہمراہ بیوہ کےگھر پردھاوا بولا اور انہیں تشدد کا نشانہ بنایا۔

بیوہ خاتون اور دونوں بچیوں پر دھونس اور دھمکی کے بعد پنجایت کے سربراہ نے دس سالہ زہرہ کا نکاح واجد نامی لڑکے جبکہ آٹھ سالہ ساجدہ کا نکاح ماجد کے ساتھ کردیا۔

بیوہ خاتون پر تشدد اور کمسن یتیم بچیوں کے زبردستی نکاح کے بعد تھانہ کندائی کی پولیس حرکت میں آئی اور انہوں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے سرپنچ سمیت دو ملزمان کو گرفتار کرلیا جبکہ کمسن بچیوں کا نکاح پڑھانے والے نکاح خواں کے گھر پر بھی چھاپہ مارا تاہم کوئی گرفتاری عمل میں نہ آسکی۔

ڈی پی او مظفر گڑھ نے بھی واقعہ کا نوٹس لیا اور ڈی ایس پی یوسف ہارون کو فوری تفتیش کرنےکا حکم دیتے ہوئے تفصیلی رپورٹ طلب کرلی ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب کا نوٹس

دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے مظفر گڑھ میں دو بچیوں کو ونی کیےجانےکا نوٹس لیا ہے اور وزیراعلیٰ پنجاب نے آر پی او ڈیرہ غازی خان سے رپورٹ طلب کرلی ہے، سردار عثمان بزدار نے واقعے میں ملوث ملزمان کی جلد گرفتاری کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ بچیوں کو ونی کرنے میں ملوث ملزمان کو قانون کی گرفت میں لایا جائے گا۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے جرگہ اور پنجایت کے نظام کو آئین اور پاکستان کی بین الاقوامی یقین دہانیوں کے خلاف قرار دے رکھا ہے، یہ فیصلہ سترہ جنوری 2019 کو سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی جانب سے دیا گیا تھا۔

سپریم کورٹ کی جانب سے فیصلے میں کہا گیا تھا کہ جرگہ اور پنجایت کے نظام انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے (یو ڈی ایچ آر)، سول اور سیاسی حقوق پر بین الاقوامی معاہدے (آئی سی سی پی آر) اور خواتین کے خلاف امتیازی سلوک کے تمام فورم پر خاتمے پر موجود کنونشن (سی ای ڈی اے ڈبلیو) کے تحت پاکستان کی بین الاقوامی وعدوں کے خلاف ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں