The news is by your side.

Advertisement

پنڈوراپیپرز، وزیر خزانہ کا رد عمل آگیا

اسلام آباد:پاناما کی صحافتی تنظیم آئی سی آئی جے کی جانب سے پینڈورا پیپرز جاری کرنے پر وزیر خزانہ شوکت ترین کا ردعمل آگیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق وزیر خزانہ شوکت ترین نے ‘ پنڈورہ پیپرز’ میں آف شور کمپنی سامنے آنے کے بعد اے آر وائی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آئی سی آئی جے نےمیرا کوئی مؤقف نہیں لیا، عمرچیمہ نے کہا کہ میں نےای میل کی تھی مجھےموصول نہیں ہوئی، آئی سی آئی جے نےجو الزام مجھ پرلگایا ہےاس پرنوٹس لوں گا۔

وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ حکومت کےپاس احتساب کا اختیارہے،اسےمتحرک کرینگےاور شفاف طریقے سےاحتساب کیا جائے گا، مجھےمعلوم نہیں کتنے لوگوں کی آف شور کمپنیز ہیں؟ قبل ازوقت تعین نہیں کیاجاسکتا، کوشش ہوگی جلد سےجلد تفتیش کریں۔

وزیر خزانہ شوکت ترین نے خصوصی گفتگو میں کہا کہ ہمارا فارن ٹیکس ڈپارٹمنٹ کام کررہاہے، میری مدت میں کوئی ایمنسٹی اسکیم نہیں ہوئی، میں بذات خود ایمنسٹی اسکیم آئیڈیا سےمتفق نہیں ہوں۔

یہ بھی پڑھیں: ‏’وزیراعظم سرخرو، کوئی آف شور کمپنی نہیں‘‏

 وزیر خزانہ شوکت ترین نے ‘ پنڈورہ پیپرز’ میں آف شور کمپنی سامنے آنے کے بعد جاری بیان میں اعتراف کیا کہ کمپنیاں ضرور کھلی تھیں جو بعد میں بند ہوگئیں، کمپنیز کا کوئی بینک اکاؤنٹ کھلا نہ ٹرانزیکشن ہوئی۔

شوکت ترین نے بتایا کہ طارق ملک طارق بن لادن کیلئے کام کرتےتھے، سرمایہ کاری کیلئےطارق بن لادن سے معاہدہ ہوا تھا۔

واضح رہے کہ عالمی تحقیقاتی آئی سی آئی جے نے ایک بار پھر ٹیکس چھپانے کے لیے بنائی جانے والی کمپنیز اور مالکان کے نام ‏کی تفصیلات جاری کردیں۔

آئی سی آئی جے کے مطابق مالی امور کی تحقیقات دو سال میں مکمل کی گئی، جس میں 117 ممالک کے 150 ‏میڈیا اداروں کے 600 صحافیوں نے تحقیقات کیں۔ پینڈورا پیپرز میں 700سے زائد پاکستانیوں کے نام شامل ہیں ‏جبکہ یہ ایک کروڑ 19 لاکھ فائلوں پر مشتمل ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں