The news is by your side.

Advertisement

اسپتال کے مرکزی دروازے پر آدم خور مگر مچھ کا ڈیرہ، لوگ خوفزدہ

ہرارے: زمبابوے کے شمالی شہر ہاوان میں اسپتال کے مرکزی دروازے پر آدم خور مگر مچھ نے ڈیرے ڈالے اور خاتون پر حملہ کرکے لوگوں میں خوف و ہراس پھیلا دیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق زمبابوے کے شمالی شہر ہاوان میں واقع سن پیٹرک اسپتال کے عین مرکزی دروازے پر ڈیرے ڈال کر بیٹھا اور آنے جانے والوں پر حملے کرنے کی کوشش کی۔

آدم خور مگر مچھ نے سارے شہر میں ایسا خوف پھیلایا کہ لوگوں نے اسپتال آنا چھوڑ دیا، یہ خبر سارے شہر میں جنگل میں آگ کی طرح پھیلی تو جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے کوشاں (محکمہ وائلڈ لائف) کا عملہ جائے وقوعہ پر پہنچا اور صورتحال کو قابو کرنے کی کوشش کی۔

مزید پڑھیں:  بہادر دریائی گھوڑوں نے مگر مچھ کے منہ سے اس کا نوالہ چھین لیا

مقامی میڈیا کے مطابق وائلڈ لائف کے رضا کاروں نے عام شہریوں کے ساتھ مل کر آدم خور مگر مچھ کو قابو کرنے کی کوشش کی تو وہ بپھر گیا جس کے بعد مجبوراً اُسے گولی مار نی پڑی۔

سرکاری محمکے کی ترجمان تیناسے فاراوو نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ’شہر میں جاری شدید بارش کے باعث مگر مچھ یہاں تک پہنچا اور اُس نے اسپتال کے باہر خاتون پر حملہ بھی کیا، خوش قسمتی سے انہیں زیادہ زخم نہیں آئے‘۔

اُن کا کہناتھا کہ ’ہمیں منگل کے روز سے اطلاعات مل رہی تھیں کہ علاقہ مکینوں نے اسپتال کے باہر مگر مچھ کو بیٹھے دیکھا ہے تاہم ٹیم نے اسے مذاق سمجھا مگر جب تواتر کے ساتھ شکایات موصول ہوئیں تو معاملے کی حقیقت تک پہنچنے کے لیے تحقیقات شروع کیں‘۔

یہ بھی پڑھیں: مگرمچھ کا شکاری خود شکار بن گیا

تیناسے کا کہنا تھا کہ مگر مچھ ایک جگہ پر نہیں تھا بلکہ وہ موقع ملتے ہی ایک  سے دوسرے مقام کی طرف چلا جاتا تھا جس کی وجہ سے لوگ اور بھی زیادہ خوف زدہ تھے، منگل کی شام ہمیں پانچ منٹ کے درمیان 10 سے زائد کالز موصول ہوئیں اور سب مگر مچھ کی موجودگی کا بتا رہے تھے۔

وائلڈ لائف کی ترجمان کا کہنا تھا کہ اسپتال کے باہر مگر مچھ مسلسل دو گھنٹے تک بیٹھا رہا اور اُس نے آنے جانے والوں پر حملے کی کوشش کی جس کی زد میں صرف ایک خاتون آئیں۔

مقامی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ مگر مچھ کی لمبائی 10 میٹر سے طویل جبکہ اُس کا وزن بہت زیادہ تھا تاہم وائلڈ لائف نے اس حوالے سے کوئی بھی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں