The news is by your side.

Advertisement

پنجابی زبان کے مقبول شاعر استاد دامن کی 35 ویں‌ برسی آج منائی جارہی ہے

استاد دامن کا تذکرہ ہو تو جہاں ان کی سادہ بود وباش اور بے نیازی کی بات کی جاتی ہے، وہیں جرأتِ اظہار اور حق گوئی کی بھی مثال دی جاتی ہے۔ اس کثیرالمطالعہ اور خداداد صلاحیتوں کے حامل تخلیق کار کو پنجابی ادب کی پہچان اور صفِ اول کا شاعر کہا جاتا ہے۔

استاد دامن کا حافظہ قوی اور فی البدیہہ اشعار کہنے میں انھیں کمال حاصل تھا۔ ان کی شاعری عوامی جذبات کی ترجمان اور جذبۂ حبُ الوطنی سے آراستہ ہے۔ مصلحت سے پاک، کسی بھی قسم کے خوف سے آزاد اور عوامی لہجہ استاد دامن کی مقبولیت کی ایک بڑی وجہ ہے۔ جس طرح اردو میں فیض و جالب نے جبر اور ناانصافی کے خلاف نظمیں‌ کہیں اور لوگوں میں‌ شعور بیدار کیا، اسی طرح استاد دامن نے سیاسی جلسوں، عوامی اجتماعات میں پنجابی زبان میں اپنے کلام کے ذریعے استحصالی ٹولے اور مفاد پرستوں کو بے نقاب کیا۔

آج پنجابی ادب کے اس مقبول شاعر کی برسی ہے۔ استاد دامن کو دنیا سے رخصت ہوئے 35 برس بیت چکے ہیں، مگر ناانصافی، عدم مساوات اور جبر کے خلاف ان کے ترانے، نظمیں آج بھی گویا زندہ ہیں۔ پنجابی کے علاوہ استاد دامن اردو، ہندی اور دیگر زبانوں سے واقف تھے۔

ان کا اصل نام چراغ دین تھا۔ وہ زندگی بھر سادگی اور حق گوئی کی مثال بنے رہے۔ صلے اور ستائش کی تمنا سے آزاد اور سچائی کا ساتھ دینے والے اس شاعر کا سن پیدائش 1910 ہے۔ لاہور ان کا مستقر تھا جہاں استاد دامن کے والد کپڑے سینے کا کام کرتے تھے۔ استاد دامن نے بھی معاش کے لیے یہی کام کیا اور باوقار انداز سے زندگی گزاری۔

استاد دامن نے پنجابی شاعری اور فن پر گرفت رکھنے کے سبب اہلِ علم نے انھیں استاد تسلیم کیا اور پنجابی زبان و ادب کے فروغ کے لیے ان کی خدمات کا اعتراف آج بھی کیا جاتا ہے۔ وہ 3 دسمبر 1984 کو یہ دنیا ہمیشہ کے لیے چھوڑ گئے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں