The news is by your side.

Advertisement

6 سالہ جھلسی ہوئی بچی کے والدین علاج کے لیے در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور

کراچی: پنو عاقل سے تعلق رکھنے والے والدین 2 روز سے اپنی 6 سالہ جھلسی ہوئی بچی لے کر ایک شہر سے دوسرے شہر در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہوگئے، بچی کو مختلف اسپتالوں نے علاج سے منع کردیا۔

تفصیلات کے مطابق صوبہ سندھ کی تحصیل پنو عاقل سے تعلق رکھنے والی 6 سالہ معصومہ 2 روز قبل چائے کے برتن میں گر کر جھلس گئی، 2 روز سے والدین سندھ بھر کے اسپتالوں میں در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔

والدین کا کہنا ہے کہ بچی کو سول اسپتال پنو عاقل لے کر گئے تو انہوں نے سول اسپتال سکھر بھیج دیا، سول اسپتال سکھر گئے تو انہوں نے کراچی این آئی سی ایچ بھیج دیا۔

والدین کا مؤقف ہے کہ این آئی سی ایچ گئے تو انہوں نے کراچی سول اسپتال برنس وارڈ بھیج دیا لیکن برنس وارڈ میں بھی علاج کرنے سے منع کردیا گیا۔

مجبور باپ نے دہائی دیتے ہوئے کہا کہ بیٹی کو جھلسے 48 گھنٹے سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے، بیٹی کو لے کر سندھ بھر کے اسپتالوں میں گھما چکا ہوں۔

والدین نے میڈیا کے سامنے روتے ہوئے کہا کہ خدارا انصاف کیا جائے اور بیٹی کا علاج کیا جائے۔

خیال رہے کہ اس سے قبل بھی سندھ میں اسی نوعیت کا ایک واقعہ پیش آیا تھا جب شکار پور میں 10 سالہ بچے کو کتے نے کاٹ لیا تھا۔

والدین اسے لے کر اسپتالوں میں گھومتے رہے لیکن کہیں ویکسین نہ ملی، معصوم بچے نے تڑپ تڑپ کر ماں کی گود میں جان دے دی تھی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں