site
stats
عالمی خبریں

پیرس حملوں کے ماسٹر مائنڈ اور مزید2خودکش حملہ آوروں کو شناخت کرلیا گیا

پیرس : فرانسیسی دارالحکومت پیرس دھماکوں اور گولیوں کی آوازسے گونج اٹھا۔ سانحے میں ہلاک ہونے والے افرادکی تعداد 132 ہوگئی  ہے، ایک شخص کی تلاش جاری ہے۔

برطانوی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ فرنچ حکام نے پیرس حملوں کے ماسٹر مائنڈ کو شناخت کرلیا، عبدالحامد کا تعلق بیلجیئم سے ہے جبکہ مفرورملزمان کے بین الاقوامی وارنٹ جاری کردیئے گئے ہیں، پانچ افراد بیلجیئم سے اور فرانس سے تئیس مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

مزید دو خودکش حملہ آوروں کو شناخت

پیرس حملوں کے بعد فرانس کے مختلف علاقوں میں سرچ آپریشن جاری ہے، مزید دو خودکش حملہ آوروں کو شناخت کرلیا گیا جبکہ چھاپوں کے دوران تولوز سےتین مشتبہ افراد کو گرفتارکرلیا گیا.

پیرس حملوں کے بعدمختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پرسرچ آپریشن کیا جا رہا ہے، مزید دوخودکش حملہ آوروں کی شناخت کرلی گئی ہے، حکام کا کہنا ہے دونوں فرانسیسی شہری تھے تاہم ان کی شناخت ابھی ظاہرنہیں کی جائیگی.

فرانسیسی پراسیکیوٹر کے مطابق خودکش حملہ آوراحمد ال محمد شام جبکہ سامی امیمورپیرس میں پیدا ہوا، فرانسیسی پراسیکیوٹرنے میڈیا کو بتایا کہ احمد ال محد نے اسٹیڈیم اورسامی امیمورنے بٹکلان تھیڑ میں خود کو دھماکے سے اڑایا، پولیس نے نئے شناخت ہونے والے دو خودکش بمباروں میں سے ایک کے چھ رشتے داروں کو گرفتارکرلیا ہے.

فرانسیسی حکام نے پیرس حملوں میں مطلوب شخص کی تصویر جاری کردی ہے، چھبیس سالہ عبدالسلام کا تعلق بلجیم سے ہے، برطانوی میڈیا کے مطابق حملوں کے چند گھنٹے بعد عبدالسلام کو بلجیم اور فرانس کی سرحد پرروکا گیا تھا تاہم سفری کاغذات دیکھنے کے بعد پولیس نے اسے جانے کی اجازت دے دی۔

عبدالسلام کا ایک بھائی بٹاکلان تھیٹر میں مارا گیا اوردوسرے کو بلیجیم میں گرفتار کرلیا گیا ہے۔

فرانس کے وزیرِ داخلہ کا کہنا ہے پیرس حملوں کی منصوبہ بندی بیلجیئم سے تعلق رکھنے والے افراد پرمشتمل گروپ نے کی، جنھیں فرانس میں اپنے ساتھیوں کی مدد حاصل تھی.

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کے مطابق فرنچ صدرنے ایمرجنسی میں تین ماہ کی توسیع پر غورشروع کردیا ہے، جس کا بل منظوری کیلئے وہ بدھ کو پارلیمنٹ میں پیش کریں گے.

تفصیلات کے مطابق فرانس میں دہشت گردی کا سب سےبڑاواقعہ پیش آیا ہے جس میں 132 افراد ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہوگئے۔

سانحے کے بعد فرانس میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے اور فرانسیسی صدر ایمرجنسی کو تین ماہ تک جاری رکھنے پر سوچ بچار کررہے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق پیرس کے اسٹیٹ دی فرانس اسٹیڈیم میں فٹبال میچ جاری تھاجس کے دوران دہشت گردوں نے اچانک حملہ کردیا،فٹبال اسٹیڈیم کے اطراف دھماکوں سےبھگدڑ مچ گئی۔

اسٹیڈیم کے قریب واقع ریسٹورنٹ میں پہلے ایک حملہ آور نے خود کار بندوق سے فائرنگ شروع کردی جس میں متعددافرادہلاک اورزخمی ہوگئے۔جس کے بعد دیکھتے ہی دیکھتے شہر کے مختلف مقامات میں آگ و خون کا دہشت ناک کھیل شروع ہوگیا۔

شہرکےسات مختلف مقامات پریکےبعد دیگرے دہشت گردوں نےحملوں کئےجس میں اب تک 132 افرادجان کی بازی ہار چکے ہیں۔

پولیس کے مطابق دہشت گردوں نےاسٹیڈیم کے قریب دو خود کش دھماکے اور ایک دستی بم پھینکا گیا۔

حملےکے وقت فرانسیسی صدر ہولاندےسمیت دیگراعلیٰ حکومتی شخصیات فٹبال اسٹیڈیم میں موجود تھیں تاہم انہیں باحفاظت نکال لیا گیا۔

دہشت گردوں نے بٹاکلن کنسرٹ ہال میں گھس کر اندرموجود سوافرادکویرغمالی بنالیا جنہیں بچانے کیلئے سیکورٹی فورسز نے آپریشن کیا تاہم دہشت گردوں نے کنسرٹ ہال میں موجود افرادکو فائرنگ کرکے ہلاک کردیا۔

سیکورٹی فورسزکے آپریشن میں 8 دہشت گردمارے گئے ۔اطلاعات کےمطابق کنسرٹ ہال میں پھنسے ہوئے امریکی راک بینڈ کےارکان حفاظت سےہیں۔

آپریشن کے بعد فرانسیسی صدر نے کنسرٹ ہال کا دورہ کیا۔ فرانسیسی صدر کا حملوں کے فوراًبعد قوم سے خطاب میں کہناتھا کہ دہشت گردوں کو ایک بار پھرشکست دے کر رہیں گے۔

فرانس میں ایمرجنسی نافذ کرکےسرحدیں بند کردی گئیں جبکہ پیرس میں فوج تعینات کردی گئی ہے۔پیرس میں کرفیو نافذ کرکےلوگوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

فرانس میں پاکستانی سفارت خانے کے ذرائع نے بتایا ہے کہ سانحے میں کسی پاکستانی کے ہلاک یا زخمی ہونے کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ فرانس میں موجود پاکستانی خیریت سے ہیں، پاکستانی سفیر غالب اقبال کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے جیسے ہی کوئی اطلاع موصول ہوئی تو پاکستانی میڈیا کو آگاہ کیا جائے گا۔

خود کش بمبار

فرانسیسی پولیس کی جانب سے کئے گئے ٹویٹ کے مطابق عبدالسلام صالح نامی بیلجیئن نژاد دہشت گرد کی تلاش جاری ہے۔

پیرس حملوں کے ماسٹر مائنڈ تک پہنچنے تک کڑی سی کڑی ملانے کا سلسلہ شروع ہو گیا ۔ تازہ جاری کی گئی اطلاعات کے مطابق اسٹیڈیم کے باہر ہونے والے خود کش بمبار کو سکیورٹی گارڈ نے روک دیا تھا ۔ بمبار نے خود کش جیکیٹ پہنی ہوئی تھی ۔ سیکورٹی زرائع کے مطابق خودکش بمبار جرمنی اور فرانس کے درمیان میچ میں دھماکہ کرنا چاہتا تھا جس سے نہ صرف تماشائیوں کا جانی نقصان ہوتا بلکہ بگھڈر مچ جانے کے بعد سیکڑوں شائقین پیروں تلے کچلے بھی جا سکتے تھے۔

سیکورٹی زرائع کے مطابق داخل ہونے سے منع کرنے پر تین منٹ بعد دوسرے شخض نے خود کو اڑا لیا تاہم تماشائیوں میں افرا تفری نہ پھیل جائے اس لیے اسٹیڈیم کے اندر خود کش دھماکہ کی اطلاع نہیں دی گئی ۔ یاد رہے یورو دو ہزار سولہ فٹبال چئیمپن شپ اگلے سال فرانس میں منقعد ہوگی۔

پیرس حملوں میں ملوث خودکش بمبار کے والد اوربھائی کوحراست میں لےلیاگیا، حملوں کےتین سہولت کار بیلجیئم سے گرفتار کیے گئے جن سے تفتیش جاری ہے۔

 ایک دہشت گرد کے بارے میں اطلاعات آرہی ہے ہیں کہ وہ شام کاباشندہ ہےاوروہ گزشتہ ماہ یونان کے راستے یورپ میں داخل ہوا تھا، ہلاک حملہ آور سے شام کاپاسپورٹ بھی ملا ہے۔

حکام کے مطابق دہشت گردوں سے بیلجیئم میں پارکنگ کے ٹکٹ بھی ملے ہیں،حملہ آوروں کے سہولت کاروں کی تلاش کیلئے بیلجیئم میں سرچ آپریشن کیا جارہاہے، اس دوران ایک شخص کو بھی گرفتارکرلیاگیا ہے۔

داعش نے حملوں کی ذمہ داری قبول کرلی

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق برطانوی اخبار ڈیلی ایکسپریس نے دعویٰ کیا ہے کہ فرانس دھماکوں کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم داعش نے قبول کرلی ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق شام اور عراق میں برسرِ پیکار شدت پسند تنظیم داعش نے پیرس حملوں کے بعد یورپ کے متعدد شہروں کو بھی نشانہ بنانے کا اعلان کیا ہے۔
عالمی رہنماؤں کی مذمت

پ: فرانس میں دہشت گردی کے ہولناک واقعے کی عالمی سربراہان نےسخت مذمت کرتے ہوئےدکھ کی اس کھڑی میں فرانس کے ساتھ کھڑے ہونے کا اعلان کیا۔

پیرس حملوں پر عالمی رہنماؤں کی جانب سے شدید مذمت اور دکھ کا اظہار کیا گیا ہے، دکھ کی اس گھڑی میں عالمی برادری نے فرانس کے ساتھ۔ ہرقسم کے تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے اپنے ٹویٹ میں واقعے پر افسوس کا اظہار کیا انہوں نے مغویوں کی جلد رہائی پرزوردیا۔

امریکی صدر باراک اوباما نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حملہ پیرس پر نہیں بلکہ پوری انسانیت پر ہےدل دہلا دینے والی اس صورتحال میں فرانسیسی عوام کے ساتھ ہیں۔

وزیر اعظم میاں نواز شریف نے پیرس دھماکوں کی پرزور مذمت کرتے ہوئے فرانسیسی عوام سے اظہار یکجہتی کیا ہے ، انہوں نے کہا کہ پاکستان دکھ لی اس گھڑی میں فرانس کی عوام کے ساتھ ہے۔

برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نےاپنے ٹویٹ میں کہاہے کہ اس افسوس ناک صورتحال میں ہر ممکن مدد کے لئے تیار ہیں جبکہ فرانسیسی عوام کے لئے دعائیں اور نیک تمنائیں پیش کیں۔

جرمن چانسلر اینگلا مرکل نے گہرے دکھ کے ساتھ پیرس واقعے میں مرنے والوں سےیکجہتی کا اظہار کیا۔

روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے اظہار افسوس کرتے ہوئے دہشت گردی کے واقعے کی تحقیقات میں مدد کی پیش کش کردی۔

کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے بھی حملے میں مرنے والوں سے ہمدردی ظاہر کرتے ہوئے فرانس کو ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کا اعلان کیا۔
پاکستانی سیاست دانوں کی جانب سے واقعے کی مذمت، متاثرین سے اظہار یکجیتی

فرانس سانحے پر مختلف سیاسی اور سماجی رہنماؤں کی جانب سے شدید مذمت اور گہرے رنج و غم کا اظہار کیا گیا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان، پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، اسفند یار ولی، جمیعت علماء اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن اور دیگر نے فرانس واقعے کی پرزور مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا سے دہشت گردی کے خاتمے کیلئے عالمی کوششوں کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے سب سے زیادہ شکار ہے اور مختلف محاذوں پردہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے۔

رہنماؤں نے فرانس کے عوام کے ساتھ ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کیا اور کہا کہ پاکستانی قوم درد کی اس گھڑی میں ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ہم نے ایسے واقعات کی ہمیشہ مذمت ہی کی ہے لیکن خود اُن کو بھی سوچنا چاہئیے کہ انہوں نے جس طرح مسلم ممالک میں آگ لگائی تو یہ آگ ان کے گھر تک بھی پہنچ سکتی ہے۔

فرانس پہلے بھی دہشت گردی کی زد میں رہا، واقعات پر ایک نظر

فرانس میں دہشت گردی کا یہ کوئی پہلاواقعہ نہیں ہے،اس سے پہلے بھی دہشت گردی کے کئی خونریز واقعات رونما ہوچکے۔

یورپی یونین کا سب سے بڑا رکن ملک فرانس ایک بار پھر دہشت گردی کی زد میں ہے، رواں سال سات جنوری کوگستاخانہ خاکوں کی اشاعت پر فرانسیسی اخبارچارلی ہیبڈو کے دفتر پر حملے میں گیارہ افرادہلاک اور دس زخمی ہوئے۔

جدید فرانس کی تاریخ میں پہلا واقعہ انیس سواکسٹھ میں اسٹراس برگ پیرس ٹرین میں ہوا، فرانس میں دہشت گردی سے صدر ڈیگال بھی نہ بچ سکے، جبکہ الجیریا اور آرمینیا کے سفارت خانے بھی دہشت گردی کا شکار ہوئے۔

فرانس میں دہشت گردی پر قابو پانے میں ناکامی کی صورت میں عبادت گاہیں بھی نشانہ بنتی رہیں ،فرانس میں طیاروں کو دہشت گردی کے مقاصد کے تحت اغواء بھی کیا جاتا رہا ہے۔

اس پورے منظر نامے کی روشنی میں فرانس دہشت گردی کا ایسا نشانہ رہاہے۔ جس پر عالمی طور پر کبھی سنجیدہ توجہ نہیں دی گئی۔

 فرانس سانحہ پر ٹوئٹر صارفین کا ردعمل

 

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top