ہمالیہ کی بلند چوٹیوں اور رہائشی علاقے کے درمیان واقع بھوٹان کا پارو انٹرنیشنل ایئرپورٹ دنیا کا خطرناک ترین ہوائی اڈہ سمجھا جاتا ہے جسے صرف 50 پائلٹس کو استعمال کرنے کی اجازت ہے۔
پارو انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا رن وے تقریباً 7,431 فٹ لمبا ہے جو صرف چھوٹے طیاروں کی لینڈنگ کو ممکن بناتا ہے لہٰذا یہاں ایسے پائلٹس کی ضرورت ہے جن کی خصوصی تربیت کی گئی ہو اور وہ ریڈار کے بغیر بھی طیارہ لینڈ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔
اس ایئرپورٹ پر طیارہ لینڈ کرواتے وقت پائلٹ کو انتہائی محتاط رہنا پڑتا ہے کیونکہ معمولی سی غلط کسی بڑے حادثے کا سبب بن سکتی ہے۔ یہ سی کیٹیگری کا ہوائی اڈہ ہے جہاں پرواز کرنے کیلیے پائلٹس کو خصوصی تربیت حاصل کرنا ہوتی ہے۔
بھوٹان کی قومی سرکاری ایئرلائن ڈروک ایئر کے کیپٹن چیمی دورجی نے سی این این سے گفتگو میں بتایا کہ پارو میں واقعی آپ کو مہارتوں اور مقامی علم کی ضرورت ہے، ہم اسے ایریا کمپیٹینس ٹریننگ یا ایریا ٹریننگ کہتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اونچائی پر طیارے کو بنیادی طور پر تیزی سے اڑنا پڑتا ہے، آپ کی حقیقی رفتار وہی ہوگی لیکن زمین کے مقابلے میں آپ کی فضائی رفتار بہت تیز ہے۔
ہوائی اڈے کے حکام تیز ہوا کی وجہ سے زیادہ سے زیادہ حفاظت کی وجہ سے تمام طیاروں کو دوپہر سے پہلے لینڈ کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔
کیپٹن چیمی دورجی کہتے ہیں کہ دوپہر کے بعد آپریشن سے گریز کیا جاتا ہے کیونکہ اس کے بعد بہت تیز ہوائیں چلتی ہیں اور درجہ حرارت میں اضافہ ہو جاتا ہے، تاہم ٹیک آف کے دوران یہ مسئلہ نہیں ہوتا۔