17.1 C
Ashburn
ہفتہ, مئی 25, 2024
اشتہار

پروین شاکر: سکوت سے ‘نغمہ سرائی’ تک

اشتہار

حیرت انگیز

اردو کی مقبول ترین شاعرہ پروین شاکر کی موت کے بعد ان کا کلیات ‘‘ماہِ تمام’’ کے نام سے مداحوں تک پہنچا تھا۔ اس سے قبل پروین شاکر کے مجموعہ ہائے کلام ‘‘خوش بُو، خود کلامی، انکار اور صد برگ’’ کے نام سے منظرِ‌عام پر آچکے تھے۔

پروین شاکر نے 26 دسمبر 1994ء کو ایک ٹریفک حادثے میں زندگی ہار دی تھی۔ آج اردو کی اس مقبول شاعرہ کی برسی ہے۔

اردو شاعری سے شغف رکھنے والوں میں پروین شاکر کو ان کے رومانوی اشعار کی وجہ سے زیادہ مقبولیت ملی، لیکن اردو ادب میں پروین شاکر کو نسائی جذبات کے عصری شعور کے ساتھ اظہار کی وجہ سے سراہا جاتا ہے۔

- Advertisement -

‘‘ماہِ تمام’’ پروین شاکر کا وہ کلّیات تھا جو اس شاعرہ کی الم ناک موت کے بعد سامنے آیا۔ محبّت اور عورت کا دکھ پروین شاکر کی شاعری کا خاص موضوع رہے۔ انھوں نے نسائی جذبات اور عورت کے احساسات کو شدّت اور درد مندی سے بیان کیا ہے اور غزل کے ساتھ نظم میں‌ بھی خوبی سے پیش کیا ہے۔

پروین شاکر کا تعلق ایک ادبی گھرانے سے تھا۔ وہ چند سال درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ رہیں اور پھر سول سروسز کا امتحان دے کر اعلیٰ افسر کی حیثیت سے ملازم ہوگئیں۔ اس دوران شاعرہ نے اپنی تخلیق اور فکر و نظر کے سبب ادبی دنیا میں اپنی پہچان بنا لی تھی۔ مشاعروں اور ادبی نشستوں میں انھیں خوب داد ملی اور ان کے شعری مجموعے باذوق قارئین میں بہت پسند کیے گئے۔

پروین شاکر کی شاعری میں ان کی زندگی کا وہ دکھ بھی شامل ہے جس کا تجربہ انھیں ایک ناکام ازدواجی بندھن کی صورت میں‌ ہوا تھا۔ انھوں نے ہجر و وصال کی کشاکش، خواہشات کے انبوہ میں ناآسودگی، قبول و ردّ کی کشمکش اور زندگی کی تلخیوں کو اپنے تخلیقی وفور اور جمالیاتی شعور کے ساتھ پیش کیا، لیکن ان کی انفرادیت عورت کی نفسیات کو اپنی لفظیات میں بہت نفاست اور فن کارانہ انداز سے پیش کرنا ہے۔ اپنے اسی کمال کے سبب وہ اپنے دور کی نسائی لب و لہجے کی منفرد اور مقبول ترین شاعرہ قرار پائیں۔

بقول گوپی چند نارنگ نئی شاعری کا منظر نامہ پروین شاکر کے دستخط کے بغیر نامکمل ہے۔ احمد ندیم قاسمی نے کہا کہ پروین شاکر نے اردو شاعری کو سچّے جذبوں کی قوس قزحی بارشوں میں نہلایا۔

پروین شاکر 24 نومبر 1952ء کو کراچی میں پیدا ہوئی تھیں۔ وہ عمری ہی میں اشعار موزوں کرنے لگی تھیں۔ انھوں نے کراچی میں تعلیمی مراحل طے کرتے ہوئے انگریزی ادب میں کراچی یونیورسٹی سے ایم اے اور بعد میں لسانیات میں بھی ایم اے کی ڈگری حاصل کی اور پھر تدریس کا آغاز کیا۔ خدا نے انھیں اولادِ نرینہ سے نوازا تھا، لیکن تلخیوں کے باعث ان کا ازدواجی سفر ختم ہوگیا۔

اس شاعرہ کا اوّلین مجموعۂ کلام 25 سال کی عمر میں‌ خوشبو کے عنوان سے منظرِ عام پر آیا اور ادبی حلقوں میں دھوم مچ گئی۔ اس کتاب پر پروین شاکر کو آدم جی ایوارڈ سے بھی نوازا گیا تھا۔ یہ مجموعہ شاعری کا ذوق رکھنے والوں میں‌ بہت مقبول ہوا۔ پروین شاکر کی برسی کے موقع پر ہر سال ادب دوست حلقے اور ان کے مداح شعری نشستوں کا اہتمام کرتے ہیں جن میں شاعرہ کا کلام سنا جاتا ہے۔

پاکستان اور دنیا بھر میں موجود اردو شاعری سے شغف رکھنے والوں میں مقبول پروین شاکر کو اسلام آباد کے ایک قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا۔ یہ اشعار ان کے کتبے پر درج ہیں۔

یا رب مرے سکوت کو نغمہ سرائی دے
زخمِ ہنر کو حوصلۂ لب کشائی دے
شہرِ سخن سے روح کو وہ آشنائی دے
آنکھیں بھی بند رکھوں تو رستہ سجھائی دے

Comments

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں