The news is by your side.

Advertisement

پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں میں تلخیاں مزید بڑھنے لگی

لاڑکانہ: پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں میں تلخیاں مزید بڑھنے لگی، شہید بے نظیر بھٹو کی برسی میں شرکت کے لئے آنے والے جے یو آئی کے وفد نے بلاول بھٹو کے ظہرانے اور پی ڈی ایم اجلاس میں عدم  شرکت کرکے اپنے ارادے ظاہر کردئیے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق آج بے نظیر بھٹو کی برسی کے موقع پر نوڈیرو ہاؤس لاڑکانہ میں بلاول بھٹو کی جانب سے پی ڈی ایم شرکا کو ظہرانےدیا گیا، ظہرانے کے بعد پی ڈی ایم کا غیر رسمی اجلاس ہوا۔

اجلاس میں بلاول بھٹو، مریم نواز،محمود اچکزئی،سردار اختر مینگل نےشرکت کی جس میں پی ڈی ایم کے اجلاس میں آئندہ کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا گیا تاہم جے یو آئی (ف) وفد نے بلاول کےظہرانے اور اجلاس میں شرکت نہیں کی۔

دوسری جانب جے یو آئی اور پیپلزپارٹی میں اختلافات کی اندرونی کہانی سامنے آگئی ہے، فضل الرحمان کا بینظیر کی برسی میں شرکت سےانکار ذاتی ناراضی ہے، جے یو آئی سندھ میں مرضی کے افسران کی تعیناتی کی خواہشمندتھی، من پسند افسران کی تعیناتی نہ ہونے پر جے یو آئی نے اظہار ناراضی کرتے ہوئے یہ قدم اٹھایا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اپوزیشن اجلاسوں میں بھی جے یو آئی کی جانب سے افسران کے تبادلوں کے مطالبات رکھےگئے، کراچی وسطی میں مولانا کے ھائی کی تعیناتی بھی فرمائشی پروگرام تھا، بلاول نے جے یو آئی افسران کےتبادلوں اور تقرریوں کےمطالبات پر ناراضی کا اظہار کیا تھا۔

ذرائع نے بتایا کہ جےیو آئی نے پیپلزپارٹی سے سندھ میں ایک دو نہیں گیارہ عہدے مانگے تھے، یہ مطالبات لاہور جلسے سامنےآئےتھے، پیپلز پارٹی کی جانب سے سرد مہری دکھانے کے باعث جےیو آئی رہنما نےپی پی کےگڑھ لاڑکانہ میں دھرنےکی دھمکی دی تھی جبکہ جے یو آئی کے مطالبات اور دھمکی پر پیپلزپارٹی شدید ناراض تھی۔

جے یو آئی (ف) کے طرز عمل کے باعث بلاول لاہورجلسے میں نہیں آناچاہتےتھے، مگر (ن) لیگ نےانہیں جلسے میں شرکت کرنے کے لئے راضی کیا، بلاول کا شکوہ تھا کہ جےیو آئی نے دھمکی دینےوالے رہنما کیخلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔

دوسری جانب جے یو آئی (ف) کا شکوہ تھا کہ لاہورجلسے کےروز ڈی سی لاڑکانہ نےفضل الرحمان کےپوسٹر اتار دیئے تھے، جس کے نتیجے میں پیپلزپارٹی اور جےیوآئی کے درمیان مزید تلخیاں پیداہوئیں۔

سکھر میں جےیو آئی رہنما مولانا غفور حیدری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بلاول مردان نہیں آئےتو یہ نہیں کہہ سکتےوہ ناراض تھے، ہر کسی کا اپنا شیڈول ہوتا ہے، مولانا فضل الرحمان کا بھی اپنا شیڈول ہے، طے شیڈول کےباعث مولانا آج شریک نہیں ہوسکے۔

مولانا غفورحیدری کا کہنا تھا کہ حکمران سیاسی طور پر مقابلہ کریں ہم سیاسی میدان مارچکےہیں، پشت پناہی کرنیوالےحکمرانوں سے اپناہاتھ کھینچ لیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں