The news is by your side.

Advertisement

پیکا ترمیمی آرڈیننس کو لاہور ہائیکورٹ میں بھی چیلنج کردیا گیا

پیکا ترمیمی ارڈینینس کو لاہور ہائی کورت میں بھی چیلنج کر دیا گیا ہے درخواست میں آرڈیننس کو غیرآئینی اور کالعدم قرار دینےکی استدعا کی گئی ہے۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق رانا ایوب خاور کی جانب سے لاہور ہائی کورٹ میں پیکا آرڈیننس کو چیلنج کیا گیا ہے۔

رانا ایوب خاور نے چوہدری سعیدالظفر ایڈووکیٹ کی معرفت ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی ہے کہ حکومت نے جو پیکا ترمیمی آرڈیننس جاری کیا ہے وہ بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ آئین پاکستان ہر شہری کو آزادی اظہار رائے کا حق دیتا ہے جس کو آرڈیننس کے ذریعے ختم نہیں کیا جاسکتا ہے۔

درخواست گزار کے مطابق اس آرڈینینس کا مقصد حکومت کا اپنا تحفظ ہے اور حکومت چاہتی ہے کہ اس کے کسی بھی عمل اور کام پر تنقید نہ کی جاسکے، ایسے قوانین سے معاشرے میں مزید انتشار اورابتری پھیلے گی۔

درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ پیکا ترمیمی آرڈینینس کو کالعدم قرار دیا جائے جبکہ کیس کے فیصلے تک آرڈینینس پر عمل درآمد روکا جاٸے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ بھی پیکا آرڈیننس کے خلاف عدالت سے رجوع کرچکی ہے۔

مزید پڑھیں: پیکا ترمیمی آرڈیننس اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج

پی ایف یو جے کی جانب سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیکا آرڈیننس کو چیلنج کیا گیا ہے اور عدالت سے درخواست کی گئی ہے کہ مذکورہ آرڈیننس کو آئین اور بنیادی حقوق کے منافی قرار دیا جائے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں